خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
رکشا،ٹیکسیوالےکامیٹرسےزائدپیسےلینا
سوال:۔
کیا رکشا و ٹیکسی والوں کے لئے جائز ہے کہ میٹر جو کرایہ بتاتے ہیں مثلاً ۲۰/۴، ۸۰/۸، یا ۴۰/۱۳ روپے وغیرہ وغیرہ، مگر ان کو: ۵، ۱۰ یا ۱۵ روپے دے دو تو وہ سب جیب میں ڈال لیتے ہیں اور بقایا واپس نہیں کرتے۔ کیا ان زائد پیسوں کو صدقہ، خیرات یا زکوٰۃ سمجھ کر چھوڑ دینا چاہئے؟ مہربانی فرماکر جواب شائع فرمائیں تاکہ وہ لوگ جو ناجائز لینا یا دینا گناہ سمجھتے ہیں ان کو معلوم ہوجائے کہ وہ گناہ کر رہے ہیں یا نہیں؟
سوال:۔
بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ رکشا والا میٹر سے زیادہ پیسے مانگتا ہے، کیا میٹر سے زیادہ پیسے اس کے لئے حلال ہیں؟
جواب:۔
اصل اُجرت تو اتنی ہی بنتی ہے جتنی میٹر بتائے، زائد پیسے کرایہ دار واپس لے سکتا ہے، لیکن اس معاملے میں لوگ زیادہ کد و کاوش نہیں کرتے، اگر روپے سے اُوپر کچھ پیسے ہوجائیں تو پورا روپیہ ہی دے دیتے ہیں۔ پس اگر کوئی خوشی سے چھوڑ دے تو رکشا، ٹیکسی والوں کے لئے حلال ہے، اور اگر کوئی مطالبہ کرے تو واپس کرنا ضروری ہے۔(۱)
جواب:۔
اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ رکشا، ٹیکسی والے نے سفر شروع کرنے سے پہلے ہی وضاحت کردی ہو کہ وہ اتنے پیسے میٹر سے زیادہ لے گا، یہ تو اس کے لئے حلال ہیں، اور سواری کو اِختیار ہے کہ ان زائد پیسوں کو قبول کرے یا اس کے ساتھ نہ جائے۔(۲) دُوسری صورت یہ ہے کہ منزل پر پہنچنے کے بعد زائد پیسے مانگے، یہ جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں گویا معاہدہ میٹر پر چلنے کا تھا، معاہدے کے خلاف کرنا اس کے لئے جائز نہیں۔(۳)
- (۱)قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨ (قولہ بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج:۲ ص:۵۰)۔ أیضًا: عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریٔ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔
- (۲) الْإجارۃ عقد ۔۔۔ ولَا یصح حتّٰی تکون المنافع معلومۃ والأجرۃ معلومۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۲۹۱، کتاب الْإجارۃ)۔ أیضًا: لَا تصح الْإجارۃ إلّا بشرطین: ۱-أن تکون المنافع معلومۃ، ۲-أن تکون الأجرۃ معلومۃ۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۲ ص:۸۲، کتاب الْإجارۃ، شروط صحۃ الْإجارۃ)۔
- (۳) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: آیۃ المنافق ثلاث: إذا وعد أخلف، وإذا حدّث کذب ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ ص:۱۷ باب الکبائر وعلامات النفاق)۔

