خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
رِکشےکےمیٹرکوغلطکرکےزائدپیسےلینا
سوال:۔
ہمارے محلے میں اکثریت رِکشا، ٹیکسی والوں کی ہے، ان لوگوں کے ساتھ اکثر میری تکرار ہوجاتی ہے، حکومت نے رِکشا اور ٹیکسی کا میٹر فی میل مقرّر کیا ہوا ہے، جبکہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ حکومت وقتاً فوقتاً پیٹرول مہنگا کرتی ہے اور رِکشا، ٹیکسی کا کرایہ زیادہ نہیں کرتی، اس لئے ہمارا موجودہ ریٹوں پر گزارہ نہیں ہوتا، لہٰذا مجبوراً ہم رِکشا اور ٹیکسی کے میٹر کو تیز کروانے پر مجبور ہیں۔ اس سلسلے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے کہ یہ زائد رقم جو حکومتی ریٹوں کے علاوہ میٹر تیز ہونے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔
جو لوگ رِکشا، ٹیکسی پر سفر کرتے ہیں، ان کے ذہن میں تو یہی ہے کہ رِکشا، ٹیکسی والے حکومت کے مقرّر کردہ ریٹ پر چلتے ہیں، اس صورت میں رِکشا، ٹیکسی والے کا اپنے طور پر کرایہ بڑھاکر وصول کرنا مسافر کی رضامندی سے نہیں، بلکہ دھوکے سے ہے، اس لئے زائد رقم ان کے لئے حلال نہیں۔(۱) البتہ اگر مسافر سے یہ طے کرلیا جائے جائے کہ میں اتنے پیسے زائد لوں گا اور وہ اس پر راضی ہوجائے تو جائز ہے۔
- (۱) قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨ (قولہ بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (تفسیر معالم التنزیل للبغوی ج:۲ ص:۵۰)۔ أیضًا: عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریٔ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔

