خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
رکشا،ٹیکسییومیہکرائےپرچلانا
سوال:۔
اکثر ٹیکسی اور رِکشا ڈرائیور کرائے پر ٹیکسی یا رِکشا چلاتے ہیں، یہ ٹیکسی یا رِکشا ان کی ملکیت نہیں ہوتا، وہ مالک سے ایک متعینہ معاہدے کے تحت گاڑی چلاتے ہیں، چنانچہ شام کو پیٹرول وغیرہ کی رقم منہا کرکے جتنی رقم روزانہ کی آمدنی سے بچ جاتی ہے، وہ ٹیکسی یا رِکشے کے مالک کی ہوتی ہے، اور ڈرائیور طے شدہ معاہدے کے تحت اپنی مخصوص رقم لے لیتا ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
جواب:۔
مذکورہ صورت میں کسی شخص کا اس طرح معاہدے کے تحت ٹیکسی یا رِکشا چلاکر کمانا یا کرائے پر لینا شرعاً دُرست ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔(۱)
- (۱) لَا تصح الْإجارۃ إلّا بشرطین: ۱-أن تکون المنافع معلومۃ، ۲-أن تکون الأجرۃ معلومۃ۔ (الفقہ الحنفی ج:۲ ص:۸۲، کتاب الْإجارۃ، شروط صحۃ الْإجارۃ)۔

