خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
شاپایکٹکیشرعیحیثیتاورجمعۃالمبارککےدندُکانکھولنا
سوال:۔
عرض یہ ہے کہ اسلامی مسائل کے بارے میں آپ کے کالم میں برابر پڑھتا ہوں، اور آج مجھے بھی ایک مسئلہ درپیش ہے۔ میں نے کئی علماء سے سنا ہے کہ ’’جمعۃ المبارک کے دن مسلمانو! تم پاک صاف ہوکر مسجد میں جاؤ اور نماز ادا کرو، اور نماز کے بعد تم زمین پر رزق کی تلاش میں پھیل جاؤ، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہ تجارت اچھا پیشہ ہے اور اپنے پیشے میں امانت اور دیانت سے محنت کرو اور رزق کماؤ۔‘‘ اب مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں ایک قانون ہے، جسے شاپ ایکٹ کا قانون کہتے ہیں، اس قانون کے تحت رات ۸بجے کے بعد دُکان کھولنا یا زیادہ محنت کرنا یا جمعۃ المبارک کے دن (نمازِ جمعہ سے پہلے یا نمازِ جمعہ کے بعد) دُکان کھولنا جرم ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ کیا اسلام میں رات ۸بجے کے بعد دُکان کھولنا یا زیادہ محنت کرنا یا جمعۃ المبارک کے دن (علاوہ نمازِ جمعہ کے) دُکان کھولنا جائز ہے یا جرم ہے؟ شاپ ایکٹ کے ایک صاحب مجھے سال بھر سے اس سلسلے میں پریشان کر رہے ہیں اور میرے اُوپر جرمانے کرتے ہیں۔ آپ کو اس مسئلے کو آسانی سے سمجھنے کے لئے میں یہ وضاحت کردُوں کہ ہماری دُکان محلے میں ہے، ہم اسی پلاٹ میں رہتے بھی ہیں، ہماری دُکان میں کوئی ملازم نہیں ہے۔ ہم دو بھائی مل کر دُکان کرتے ہیں، ساتھ ہی تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔ میں ’’بی کام‘‘ کا طالب علم ہوں اور ہمارا ذریعہ معاش بھی یہی دُکان ہے، والد صاحب اور والدہ صاحبہ فوت ہوچکے ہیں۔ ہم سب چھوٹے بھائی بہن ساتھ ہی رہتے ہیں، ان حالات کی بنا پر کبھی دُکان دیر تک کھلی رکھنی پڑتی ہے اور کبھی جمعۃ المبارک کو کھولنے کی نوبت آجاتی ہے۔ دُوسرے محلے میں دُکان داری بھی چھٹی کے دنوں یا رات ۹ یا ۱۰ بجے تک ہوتی ہے۔ ابھی ۲۱؍دسمبر کو جمعہ کے دن محرّم کا چاند ختم ہونے کی وجہ سے میں دُکان کی صفائی کر رہا تھا کہ پھر شاپ ایکٹ والے صاحب آگئے اور دُکان کھولنے پر میرا چالان کردیا۔ جبکہ میں نے انہیں بتایا کہ میں صفائی کر رہا ہوں، لیکن وہ نہیں مانے۔ لہٰذا میں مجبور ہوکر یہ خط آپ کو لکھ رہا ہوں کہ آپ اس مسئلے کی وضاحت کریں کہ شاپ ایکٹ کا قانون، اسلامی نظریے سے صحیح ہے یا غلط؟
جواب:۔
نمازِ جمعہ کی اَذان سے لے کر نماز سے فارغ ہونے تک خرید و فروخت جائز نہیں۔(۱) اس کے علاوہ دُکان کھولنے میں شرعاً کوئی پابندی نہیں۔ بلکہ قرآنِ کریم میں صاف ارشاد ہے کہ جب نماز اَدا ہوچکے تو زمین پر پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا رزق تلاش کرو۔(۲) رہا وہ قانون جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے، تو ہمارے ملک میں جہاں اور بے شمار قوانین غیراِسلامی ہیں، انہیں میں اس کو بھی شامل سمجھئے۔
- (۱) وإذا أذّن المؤذّنون الأذان الأوّل ترک الناس البیع والشراء وتوجھوا إلی الجمعۃ ۔۔۔ والمراد من البیع والشراء ما یشغلھم عن السعی حتّٰی انہ إذا اشتغل بعمل آخر سواہ یکرہ أیضًا۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۹۳ کتاب الصلٰوۃ، باب صلٰوۃ الجمعۃ)۔
- (۲) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا نُودِيَ لِصَّلَوٰةِ مِن يَوۡمِ ٱلۡجُمُعَةِ فَٱسۡعَوۡاْ إِلَىٰ ذِكۡرِ ٱللَّهِ وَذَرُواْ ٱلۡبَيۡعَۚ ذَٰلِكُمۡ خَيۡرٞ لَّكُمۡ إِن كُنتُمۡ تَعۡلَمُونَ ٩ فَإِذَا قُضِيَتِ ٱلصَّلَوٰةُ فَٱنتَشِرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ وَٱبۡتَغُواْ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ ﵞ الجمعة ٩ و ١٠ ۔

