بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

محصول‌چنگی‌نہ‌دینا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

محصول چنگی لینا دینا کیسا ہے؟ اگر کوئی شخص مال چھپاکر لے گیا تو اس کے لئے وہ مال کیسا ہے؟ اور کیا چنگی ٹھیکے دار کو اس کی شکایت لگانا چاہئے؟

جواب:۔

محصول چنگی شرعاً جائز نہیں،(۱) اگر مال و آبرو کا خطرہ نہ ہو تو نہ دی جائے۔(۲)

قَالَ تَعَالَىﵟ وَلَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ ﵞ البقرة ١٨٨۔ قال الْإمام البغوی فی المعالم تحت ھٰذہ الآیۃ: (بالباطل) بالحرام یعنی بالربا والقمار والغصب والسرقۃ والخیانۃ ونحوھا۔ (معالم التنزیل ج:۲ ص:۵۰)۔ ولَا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال بغیر سبب شرعی۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۴ ص:۴۶۰)۔

  1. (۱) کیونکہ یہ ظلم ہے اور جس طرح ظلم ناجائز اور حرام ہے اسی طرح ظلم کی اِعانت بھی ناجائز ہے، اور چنگی ادا کرنے سے ظلم کی اِعانت ہوتی ہے، لہٰذا ناجائز ہے۔ (فتاویٰ محمودیۃ ج:۱۷ ص:۱۳۸ باب المتفرقات)۔
  2. (۲) الضرورات تبیح المحظورات أی ان الأشیاء الممنوعۃ تعامل کالأشیاء المباحۃ وقت الضرورۃ۔ (شرح المجلۃ ص:۲۹، رقم المادّۃ:۲۱)۔