بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

کوچ‌بس‌کا‌من‌مانے‌ہوٹل‌پر‌اسٹاپ‌کرکے‌مفت‌کھانا‌کھانا

سوال:۔

کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے کراچی تک کوچ بسیں چلتی ہیں، ہر کوچ میں تقریباً کم وبیش ۵سے۸ آدمیوں کا عملہ ہوتا ہے، اور راستے میں ہر بس کھانے اور چائے کے لئے اسٹاپ کرتی ہے، اور کوچ والوں کا ہوٹل مالکان سے معاہدہ ہوتا ہے کہ ہم گاڑی کی سواری آپ کے ہوٹل پر اسٹاپ کریں گے، آپ جانیں، سواریاں جانیں، مہنگا دیں یا سستا، وہ آپ کا کام ہے، لیکن ہماری بس میں جتنا عملہ ہوگا مع کبھی کبھار مہمان کے، ان تمام افراد کے لئے اعلیٰ قسم کا کھانا مفت ہوگا، اور کھانے میں بھی بے حساب چیزیں ہوں گی، مثلاً کھانے کے بعد بوتلیں وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں، اگر ایسا نہیں تو ہم بس کا اسٹاپ دُوسری جگہ کرتے ہیں۔

ہوٹل والا یہ کھانا بس کے عملے کو تو مفت دیتا ہے، لیکن اس کی کسر سواریوں سے نکالتا ہے، کھانا بے انتہا مہنگا بھی دیتا ہے اور خراب بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ مفت کھانا ان ڈرائیوروں اور بس عملے کو جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس لالچ کی وجہ سے ہوٹل کی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

جو صورت آپ نے لکھی ہے، اس کے مطابق ڈائیور اور ان کے رُفقاء جو مفت کا کھانا کھاتے ہیں، یہ رشوت کا کھانا ہے، جو ان کے لئے حلال نہیں،(۱) رشوت دینے میں ہوٹل والے بھی گناہگار ہیں، تاہم ان کی کمائی حلال ہے۔

  1. (۱) وفی البرجندی: الرشوۃ مال یعطیہ بشرط أن یعینہ کذا فی فتاویٰ قاضی خان۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ ص:۳۰۷)۔ لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی أی معطی الرشوۃ، والمرتشی أی آخذھا ۔۔۔ وانما یلحقھم العقوبۃ معًا إذا استویا فی القصد والْإرادۃ، ورشا المعط لینال بہ إلی الظلم ۔۔۔إلخ۔ (بذل المجھود ج:۴ ص:۳۰۷، البحر ج:۶ ص:۲۸۵)۔