بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

سفر‌میں‌گاہکوں‌کے‌لئے‌گراں‌فروش‌ہوٹل‌سے‌ڈرائیور‌کا‌مفت‌کھانا

سوال:۔

کراچی، حیدرآباد اور بعض دیگر مقامات پر بس والے ہوٹلوں پر بسیں روکتے ہیں اور مسافر ان ہوٹلوں پر کھانا کھاتے، مشروبات پیتے ہیں، اور عام ریٹ سے ہوٹل والے زیادہ رقم لیتے ہیں، جبکہ ڈرائیور، بس کا عملہ یا ان کا مہمان بھی کھانے میں شریک ہوتا ہے، اور ان سے رقم نہیں لی جاتی، تو آیا یہ کھانا ڈرائیور اور دیگر عملے کے لئے حلال ہے یا حرام؟

جواب:۔

اگر ہوٹل والے ڈرائیور اور اس کے مہمان کو بوجہ واقفیت اور دوستی اور احسان کے بدلے کے طور پر مفت کھانا کھلاتے ہیں تو جائز ہوگا، اگر اس لئے کھلاتے ہیں کہ وہ گاڑی وہاں کھڑی کریں تاکہ وہ گاہکوں سے زیادہ قیمت وصول کریں تو جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) أما الحلال من الجانبین فھو الْإھداء للتود والمحبۃ ولیس ھو من الرشوۃ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۶۲)۔ فی البرجندی: الرشوۃ مال یعطیہ بشرط ان یعینہ کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (کشاف إصطلاحات الفنون ج:۱ ص:۵۹۵ طبع سھیل اکیڈمی)۔