خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
ناجائزکمائیبچوںکوکھلانےکاگناہکسپرہوگا؟
سوال:۔
ایک باپ اپنے بچوں کو ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی دولت کھلاتا ہے، یہاں تک کہ بچے بالغ اور سمجھ دار ہوجاتے ہیں اور بچوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے باپ نے ہمیں حرام کی کمائی کھلائی، تو کیا بچوں کو اپنے والدین سے الگ ہوجانا چاہئے؟ کیونکہ اگر بچے ابھی اس قابل نہیں ہوئے کہ خود کما کھاسکیں تو بچوں کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا باپ کا گناہ بچوں کو بھی ہوگا یا صرف باپ ہی کو ہوگا؟ اس بارے میں قرآن و سنت کے مطابق تفصیل سے بیان فرمائیے۔
جواب:۔
بالغ ہونے اور علم ہوجانے کے بعد تو بچے بھی گناہگار ہوں گے، لہٰذا ان کو اس قسم کی کمائی سے پرہیز کرنا چاہئے،(۱) اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر الگ ہونا چاہئے۔ البتہ والدین کی خدمت و اکرام میں کوئی کمی نہ کریں، اور ان کی ضروریات اگر ہوں تو اس کو بھی پورا کیا کریں۔
- (۱) عن عائشۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: رفع القلم عن ثلاثۃ ۔۔۔ وعن الصغیر حتّٰی یکبر ۔۔۔إلخ۔ (ابن ماجۃ ص:۱۴۷ باب طلاق المعتدۃ والصغیر)۔

