خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
بنجرزمینکیملکیت
سوال:۔
سنا ہے بنجر زمین جس آدمی نے آباد کی ہو، وہ اس کے لئے حلال ہے، کاغذات مال میں ملکیت کا کوئی وزن نہیں ہے۔
جواب:۔
یہ مسئلہ اس بنجر زمین کا ہے جس کا کوئی مالک نہ ہو، اور اس کو حکومت کی اجازت سے آباد کیا جائے، جس بنجر زمین کے مالک موجود ہوں اس کا ہتھیالینا جائز نہیں۔(۱)
أیضًا: إذا أحیا مسلم أو ذمی أرضًا غیر منتفع بھا ولیست بمملوکۃ لمسلم ولَا ذمی فلو مملوکۃ لم تکن مواتًا فلو لم یعرف مالکھا فھی لقطۃ ملکھا عند أبی یوسف وھو المختار کما فی المختار ۔۔۔ إن أذن لہ الْإمام فی ذٰلک وقالَا یمکھا بلا إذنہ ۔۔۔إلخ۔ ( الدر المختار ج:۶ ص:۴۳۱، ۴۳۲ کتاب إحیاء الموات)۔
- (۱) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: من عمَّر أرجًا لیست لأحد فھو أحق۔ (جامع الأصول ج:۱ ص:۳۴۷، رقم الحدیث:۱۳۰)۔ عن اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ قال: أیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ من سبق إلٰی ما لم یسبقہ مسلم فھو لہ۔ (أبوداوٗد، کتاب الخراج ج:۲ ص:۸۱، طبع امدادیہ)

