خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
اُجرتسےزائدرقمدینےکافیشن
سوال:۔
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ وہ غیروں کی اندھی تقلید میں ہر اس نئی چیز کو اپنانے سے پہلے اسے اپنے دِینی اُصولوں کی کسوٹی پر پَرکھنا بھول جاتا ہے۔ جسے ہمارے معاشرے ہی کی خراب ذہنیت ’’فیشن‘‘ کا خوبصورت لبادہ پہناکر ہمیں غلط راستوں پر چلانے کے لئے پیش کرتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے اندر اچھائی اور بُرائی میں تمیز کرنے کا شعور ختم ہوتا جارہا ہے، اور بُرائیاں اب اچھائیاں بن کر سامنے آنے لگی ہیں۔ لیکن ہمارے اندر اپنے دِینی اُصولوں کے احترام اور ان پر سختی سے عمل کرنے کا جذبہ موجود ہو تو اس احتسابی عمل کی بدولت ہم آج بھی بہت سی بُرائیوں اور فضول لتوں سے بچے رہ سکتے ہیں۔
’’ٹپ‘‘، ’’بخشش‘‘ یا ’’اُوپر کی آمدنی‘‘ بھی ایک وبائی اور فضول لت ہے، جس کا مطلب کسی خدمت گار کو اس کی خدمتوں کے طفیل اس کے مقرّرہ معاوضے کے علاوہ فاضل انعام دینا ہے۔ اب تک تو اسے فضول خرچی اور معیوب سمجھا جاتا تھا، مگر اب بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ اسے رسم کا نام دے کر معاشرے میں اس کے باعزّت نفاذ کی کوششیں کی جانے لگی ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں یہ معاشرتی شان اُونچی کرنے کا جواز ہو، مگر ایسے لوگوں کی تعداد بھی یقینا کم نہ ہوگی جو اسے پہلے ہی سے بگڑے ہوئے معاشرے کو مزید بگاڑنے کا سبب قرار دیں گے۔ ہوٹل کی ’’ٹپ‘‘، سرکاری دفاتر میں رُکے ہوئے کام کرانے کا ’’نذرانہ‘‘، ’’انعام‘‘ یا ’’رشوت‘‘، کسی بڑے آدمی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تحفے تحائف کے تبادلے، رکشا، ٹیکسی والوں کے علاوہ خوانچہ فروشوں سمیت مختلف شعبوں میں اپنی طے شدہ اُجرت سے زائد پیسے وصول کرنے کے رواج کو کسی شک و شبہ کی گنجائش کے بغیر بُرائیوں اور گناہوں کی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ دِینی ہدایات کو فراموش کرتے ہوئے آج خود مسلمان اسے اپنا حق اور معاشرتی ضرورت سمجھنے لگے ہیں۔ دراصل ان بُرائیوں کے محرک وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دِلوں میں ’’اُوپر کی آمدنی‘‘ کا تصوّر پختہ گھر بنالیتا ہے، اور ان کی حوصلہ افزائی وہ لوگ کرتے ہیں جن کے ہاں ناجائز دولت کی ریل پیل ہوتی ہے، وہ ناجائز کماتے ہیں اور ناجائز دے دیتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کی حرکتوں سے ایک تو غرباء افلاس کی چکی میں بُری طرح پس جاتے ہیں اور دُوسرے معاشرے کی تباہی کا سامان الگ پیدا ہوتا ہے۔
جواب:۔
کسی شخص کو اس کے مقرّرہ معاوضے سے زائد رقم دے دینا تو شرعاً جائز بلکہ مستحب ہے،(۱) لیکن یہاں چند چیزیں قابلِ لحاظ ہیں:
۱:۔ لینے والوں کو اپنے مقرّرہ معاوضے سے زیادہ کی طمع اور حرص نہیں ہونی چاہئے۔
۲:۔ اگر کوئی شخص اِنعام نہ دے تو نہ اس سے مطالبہ کیا جائے،(۲) نہ اس کو بخیل سمجھا جائے کہ شرعاً یہ دونوں باتیں حرام ہیں۔(۳)
۳:۔ جو چیز حرام کا ذریعہ بنے وہ بھی حرام ہوتی ہے،(۴) مثلاً: پیشہ ورانہ طور پر بھیک مانگنا حرام ہے، اور جو لوگ ان پیشہ ورانہ بھکاریوں کو پیسے دیتے ہیں وہ گویا ان کو بھیک مانگنے کا خوگر اور عادی بناتے ہیں۔ اس لئے بعض علمائے وقت نے تصریح کی ہے کہ صرف پیشہ ور بھکاریوں کا بھیک مانگنا ہی حرام نہیں، ان کو دینا بھی حرام ہے۔(۵) اسی طرح اگر زائد رقم دینے کے ذریعے ان حضرات میں مطالبہ کرنے کی عادت پڑنے اور نہ دینے والے کو بخیل اور حقیر سمجھنے کا مرض پیدا ہوجائے تو یہ سب خود لائقِ ترک ہوجائے گا۔
وأیضًا: پیغمبر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چوں دَین ادا کردے، زیادہ از قدرِ واجب داد اے، بجائے نیم وسق یک وسق، وبجائے یک وسق دو وسق دادے، ومی فرمود کہ ایں قدر حق تست، وایں قدر افزونی از من است، ایں زیادہ دادن بے شرط رِبا نیست، جائز است، بلکہ مستحب است۔ (مالابدمنہ ، فارسی، کتاب التقویٰ ص:۱۰۶، طبع مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: کان لرجل علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم سن من الْإبل فجائہ یتقاضاہ، فقال: أعطوہ! فطلبوا سنہ فلم یجدوا لہ إلّا سنا فوقہ، فقال: أعطوہ! فقال: أوفیتنی أوفی اللہ لک، قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إن خیارکم أحسنکم قضاءً۔ (صحیح البخاری ج:۱ ص:۳۲۲ باب أحسن القضاء)۔
- (۲) عن أبی حرۃ الرقاشی عن عمہ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا تظلموا! ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ ص:۲۵۵، کتاب البیوع، باب الغصب والعاریۃ)۔
- (۳) قَالَ تَعَالَىﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا يَسۡخَرۡ قَوۡمٞ مِّن قَوۡمٍ عَسَىٰٓ أَن يَكُونُواْ خَيۡرٗا مِّنۡهُمۡ ﵞ الحجرات ١١۔
- (۴) لأن الأصل أن سبب الحرام حرام۔ (ھدایۃ ج:۴ ص:۴۹۶)۔
- (۵) ولَا یحل أن یسأل شیئًا من القوت من لہ قوت یومہ ویأثم معطیہ إن علم بحالہٖ لِاعانتہٖ علی المحرم۔ (الدر المختار ج:۲ ص:۳۵۴، ۳۵۵، باب المصرف)۔

