بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

دُوسرے‌کا‌جانور‌پالنے‌کی‌اُجرت‌لینا

سوال:۔

گائے یا بھینس کسی کو پالنے کے لئے دینا اُس سے یہ کہنا کہ جانور میں نے لے کے دیا ہے، چارہ وغیرہ سنبھال کر تم کرنا، دُودھ بھی تمہارا ہے، باقی اس جانور اور ان کے بچوں میں آدھا تمہارا اور آدھا ہمارا ہے، کیا یہ شرعی نقطۂ نگاہ سے جائز ہے؟

جواب:۔

یہ معاملہ شرعی نقطۂ نظر سے جائز نہیں۔ جانور اس کا ہوگا جس کی ملکیت ہے، اور اس کی پروَرِش کرنے والے کو مناسب اُجرت ملے گی۔(۱)

  1. (۱) إذا دفع البقرۃ بالعلف، لیکون الحادث بینھما نصفین، فما حدث فھو لصاحب البقرۃ ولذٰلک لرجل مثل علفہ الذی علفہ وأجر مثلہ لمن قام علیھا۔ (الفتاوی التتارخانیۃ ج:۵ ص:۶۷۰ کتاب الشرکۃ)۔ وفی الفتاوی الھندیۃ (ج:۴ ص:۴۴۵، الفصل الثالث فی قفیر الطحان): دفع بقرۃ إلٰی رجل علٰی أن یعلفھا، وما یکون من اللبن والسمن بینھما أنصافًا فالْإجارۃ فاسدۃ، وعلٰی صاحب البقر للرجل أجر قیامہ وقیمۃ علفہ إن علفھا من علفٍ ھو ملکہ، لَا ما سرحھا فی المرعٰی ۔۔۔ وکذا لو دفع الدجاج علٰی أن البیض بینھما لَا یجوز، والحادث کلہ لصاحب الدجاج۔