بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

رشوت‌سے‌سچی‌توبہ‌کرنے‌کا‌طریقہ

سوال:۔

میرے والد آزادیٔ پاکستان پر ہجرت کرکے مستقل طور پر کراچی میں ہی مقیم ہوگئے تھے۔ میری پیدائش کی نسبت پاکستان سے وابستہ ہے۔ انڈیا سے ہجرت پر والد نے اپنی تیز طرار طبیعت اور فعال زبان وعیاری، مکاری سے جھوٹے سچے کلیم جمع کراکر اچھی خاصی جائیدادیں قابو کیں، اس طرح اِبتدائی ایام سے ہی پاکستان آمد پر خوش حالی کا دور ہم پر شروع ہوگیا، جبکہ لٹے پٹے قافلوں سے آنے والے لوگوں کو طویل عرصہ تک افلاس وغربت کا سامنا کرنا پڑا۔ دولت کی ریل پیل کی بنا پر میرے علاوہ پانچ بھائیوں کی دُنیاوی تعلیم وتربیت بڑے اعلیٰ طور پر مشنری اسکولوں میں ہوئی، چنانچہ مجھے فراغت تعلیم کے بعد فوری طور پر پولیس آفیسر کے طور پر ملازمت مل گئی، چھوٹے بھائی کو بینک آفیسر کی ملازمت ملی، اور دیگر برادران میں سے ایک کو اِنکم ٹیکس میں، ایک کو کسٹم میں جگہ ملی، ایک بھائی کو ’’کے ڈی اے‘‘ میں اور سب سے چھوٹے کو ’’کے ای ایس سی‘‘ میں ملازمت مل جانے پر تنخواہ کے علاوہ دِن دُگنی اور رات چوگنی کے مصداق خوب حرام کمائی بصورتِ رشوت آنا شروع ہوگئی، اور اس طرح دولت کے ڈھیر لگنا شروع ہوگئے۔ چونکہ ہم سب بھائیوں میں ایکا ویگانگت کا جذبہ بچپن سے ہی موجود تھا، چنانچہ ہم نے مشترکہ طور پر ایک عالی شان وسیع وعریض کوٹھی میں رہائش اِختیار کی۔

راقم الحروف چونکہ پولیس میں اے ایس آئی بھرتی ہوا تھا، خوب رشوت کا بازار گرم رکھا، اور اعلیٰ عہدے داروں تک رسائی حاصل کی۔ جبکہ چھوٹے بھائیوں میں سے بینک آفیسر نے سود کی کمائی سے بڑے فائدے حاصل کئے، سودی قرضوں کے حصول اور بینکوں کے واجب الادا قرضے مع سود کے معاف کرانے میں جو نام اس نے پیدا کیا، دُنیائے بینکاری میں اس کی کوئی مثال پیش کرنا محال ہے۔ اِنکم ٹیکس میں ملازم میرے بھائی نے انسپکٹر کے عہدے سے وہ کچھ فوائد حاصل کئے کہ خاندان بھر میں تو جو نام پیدا ہونا تھا، وہ ہوا، البتہ معاشرے میں ’’راشی بھائی‘‘ سے موسوم ہونے پر بڑی شہرت پائی۔ کسٹم آفیسر ملازم میرے بھائی نے ایک اُصول بنا رکھا ہے کہ ’’کسی کو نہیں بخشنا‘‘ چنانچہ غیرممالک سے آنے والے پاکستانیوں سے غیرملکی اشیاء، قیمتی کپڑا، پُرتعیش سامان کے علاوہ فارن کرنسی میں ڈالر، پاؤنڈ، ین اور فرانک کی ریل پیل گھر میں رہتی ۔ رشوت کے نوٹوں کی بے قدری کا حال یہ تھا کہ پچاس روپے کا پان اور مرغ مسلم کی دعوت کرنا ان کا عام شیوہ تھا۔ البتہ کے ای ایس سی اور کے ڈی اے میں ملازم میرے دونوں مسکین بھائی رشوت ضرور لیتے لیکن ان کی آمدنی کا تقابل میرے اور دیگر چار بھائیوں کی آمدنیٔ رشوت کے مقابلے میں کم تھا۔ بہرحال روزانہ دو تین ہزار کی پیدا وہ بھی کر ہی لیتے تھے۔ اس طرح رشوت کی آمدنی کا دور دورہ رہا۔ ہر روز کی رقم رشوت رات کو بچوں کی موجودگی میں جمع کرنے پر فرمائشی لسٹ کے مطابق تقسیم کی جاتی اور باقی رقم کو بچت کے طور پر محفوظ کرلیا جاتا۔ نظرِبد سے محفوظ رہنے کے لئے اکثر وبیشتر لنگر کا اِہتمام کیا جاتا، جس میں غریب فقیروں کی شرکت کا بندوبست کیا جاتا، ہم سب اپنی کامیابی اسی میں تصوّر کرتے۔

مجھے ہوش اس وقت آیا جب پانی سر سے اُونچا ہوگیا، یعنی جب میرے تین بچے معذور بالترتیب پیدا ہوئے، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ لاعلاج ہیں، میں نے دولت اور اثرورُسوخ ان کے علاج کے لئے وقف کردئیے، لیکن بالآخر ایک میڈیکل کانفرنس میں پیش کئے گئے موضوع کے ان الفاظ نے مجھے نااُمید کردیا کہ: ’’سب سے زیادہ لاعلاج اور بھیانک بیماری پولیس والوں کی نومولود اولاد کو لاحق ہوتی ہے۔‘‘ چنانچہ تحقیق کرنے پر مجھے اِحساس ہوا کہ رشوت خوروں کے گھروں کی زینت چونکہ حرام مالِ رشوت سے ہوتی ہے، چنانچہ لاعلاج بیماریاں بھی مفت میں راشی گھرانوں میں ہی پروَرش پانے پر معصوم نومولود بچوں کو پیدائش سے ہی نصیب ہوجاتی ہیں۔ ان معصوموں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ اصل ذمہ داری تو ان کے والدین راشی لوگوں کو سزا ملنی چاہئے، لیکن قدرت کا اِنتقام بھی بڑا بھیانک ہے۔ نطفہ چونکہ حرام سے قائم ہوتا ہے، اس لئے راشی والدین کو بھی سزا ملنا شروع ہوجاتی ہے۔

ان تمام عبرت انگیز نشانیوں کو پالینے پر میں نے رشوت لینا چھوڑ دی۔ لیکن جو رِشوت لی گئی اس کے لئے آپ کا جواب ہے کہ اصل رقم حق داروں کو لوٹائی جائے۔ اس سلسلے میں میری دُشواری یہ ہے کہ ملازمت کے دوران میرا تقرّر کئی تھانوں میں ہوا، جن جن لوگوں سے جائز وناجائز کاموں پر میں نے خوب رشوت لی، وہ سب کے سب نہ تو میرے واقف کار تھے اور نہ ہی کوئی معروف شخصیت تھے کہ ان کی تلاش آسانی سے کی جاسکے، اکثر وفات پاگئے ہوں گے، اکثر وبیشتر نقل مکانی کرکے شہر میں کسی دُوسری جگہ یا شہر کراچی سے اندرون ملک چلے گئے ہوں گے، اب میں ان کو کیسے تلاش کروں؟ اور ان کی رقم ان کو کیسے واپس کروں؟ ایامِ جوانی میں تو خوب رشوت کا بازار گرم رکھا، اب بڑھاپے کی منازل سر پر ہیں، بے حد اَذیت محسوس کرتا ہوں، جبکہ میرے دیگر تمام بھائی باوجود میری ممانعت کے رشوت بلاخوف وخطر لیتے ہیں، میں خود کسی سے رقم طلب نہیں کرتا، اگر کوئی خود دے جائے تو لوٹاتا بھی نہیں، البتہ ماتحت عملہ ’’مک مکا‘‘ کرکے اَزخود ہی میرا حصہ مجھے خاموشی سے لفافے میں سربمہر کرکے پہنچادیتا ہے، جسے میں رَدّ بھی نہیں کرتا۔ میرے مقابلے میں میرے بھائی اپنے اپنے مذکورہ محکموں میں تو باقاعدہ رشوت مانگ کر طلب کرتے ہیں۔ بینک میں ملازم بھائی نے سود کے کام پر اَب کمیشن مقرّر کیا ہوا ہے، شرعی طور پر میرے متعلق کیا حکم ہے؟ جواب دیں تاکہ اذیت سے چھٹکارا پاسکوں؟

جواب:۔

مکرم ومحترم، السلام علیکم!

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مرنے سے پہلے آپ کو گناہ کا اِحساس ہوگیا، اور ساتھ کے ساتھ اس گناہ کی تلافی کا بھی اِحساس ہوگیا، اگر خدانخواستہ آدمی گناہ کی حالت میں مرجائے اور گناہ سے توبہ بھی نہ کرے تو اس کا جو حشر ہوگا، اللہ تعالیٰ اس سے پناہ میں رکھے! آپ کا معاملہ بہت پیچیدہ اور نازک ہے، اس سلسلے میں چند باتیں گوش گزار کرتا ہوں:

۱:۔ آج تک جتنی رِشوت لی ہے، خواہ اس کی مقدار کتنی بھی ہے، اس پر سچے دِل سے توبہ کریں، اور گھر میں بھوکے اور پیاسے مرجانا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ رشوت کا ایک پیسہ گھر میں آنے دیں۔ آپ کے جو اہلکار آپ کو بند لفافے میں رقم پہنچادیتے ہیں، ان کو صاف بتادیں کہ میں اس کو زہر سمجھتا ہوں، اور کسی قیمت پر بھی رشوت کا پیسہ کھانے کا روادار نہیں ہوں، اس لئے وہ یہ سلسلہ بند کردیں۔ اور اس سلسلے میں آپ کو عزیز واقارب کی جانب سے، دوست احباب کی جانب سے، بیوی بچوں کی جانب سے، خواہ کتنی ہی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے، مگر آپ یہ تصوّر کرلیں کہ میرا آخری دَم ہے، اور ان لوگوں کا راضی ہونا یا ناراض ہونا میرے لئے یکساں ہے۔

۲:۔ اوّل سے لے کر آخر تک جتنا روپیہ آپ نے رشوت کا لیا ہے، ندامت کے ساتھ اس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں، اور اللہ تعالیٰ سے وعدہ کریں کہ یا اللہ! جو زہر میں نے کھایا ہے، قبر اور حشر میں اس پر مؤاخذہ نہ فرمائیے۔ خوب رو رو کر اللہ سے معافی مانگیں۔(۱)

۳:۔ پوری زندگی میں جتنا رِشوت کا پیسہ آپ نے لیا ہے، اس کا اندازہ کریں، اور یہ اللہ تعالیٰ سے عہد کریں کہ میں اس روپے کو واپس کروں گا۔

۴:۔ جن لوگوں کا نام اور پتا آپ کو معلوم ہے، ان میں سے ہر ایک کے پاس جائیں، اور ہر ایک سے یہ بات کہیں کہ میں نے تم لوگوں سے جو رِشوت کا روپیہ پیسہ لیا ہے، راہِ للہ مجھے معاف کردو، اور اگر معاف نہیں کرسکتے تو اِن شاء اللہ میں کوشش کروں گا کہ آہستہ آہستہ تمہاری رقم واپس لوٹادوں۔(۲)

۵:۔ اور جن لوگوں کا آپ کو علم نہیں، یا آپ کے ذہن میں نہیں، اندازہ کریں کہ آپ نے ان سے کتنا روپیہ لیا ہوگا؟ اور آپ اللہ تعالیٰ سے وعدہ کریں کہ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے اتنا روپیہ ان لوگوں کی طرف سے غربا اور مساکین کو دیں،(۳) اور اگر اس کے لئے آپ کو اپنا مکان فروخت کرنا پڑے، تو اس سے بھی دریغ نہ کریں۔ یہ چند چیزیں میں نے مختصراً ذِکر کی ہیں، اگر مزید کسی چیز کی وضاحت مطلوب ہو تو آپ میرے پاس تشریف لائیں، والسلام!

  1. (۱) قَالَ تَعَالَى ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ تُوبُواْ إِلَى ٱللَّهِ تَوۡبَةٗ نَّصُوحًا عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمۡ سَيِّـَٔاتِكُمۡ وَيُدۡخِلَكُمۡ ﵞ التحريم ٨ﵟ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَآ إِن نَّسِينَآ أَوۡ أَخۡطَأۡنَاۚ ﵞ البقرة ٢٨٦
  2. (۲) ان التوبۃ من الرشوۃ برد المال إلٰی صاحبہ ۔۔۔إلخ۔ (البحر ج:۶ ص:۲۸۶)۔ وإن کانت (أی التوبۃ) عما یتعلق بالعباد فإن کانت من مظالم الأموال فیتوقف صحۃ التوبۃ منھا مع ما قدمناہ فی حقوق اللہ علی الخروج عن عھدۃ الأموال وارضاء الخصم فی الحال أو الْإستقبال بأن یتحلل منھم أو یردھا إلیھم أو إلیی من یقوم مقامھم من وکیل أو وارث۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۴، بیان أقسام التوبۃ)۔
  3. (۳) الحاصل: انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم، وإلّا فإن علم عین الحرام، لَا یحل لہ، ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۹)۔ وفی القنیۃ: رجل علیہ دیون لأناس لَا یعرفھم من غصوب ومظالم وجنایات یتصدق بقدرھا علی الفقراء علٰی عزیمۃ القضاء إن وجدھم مع التوبۃ إلی اللہ فیعذر۔ (شرح فقہ الأکبر ص:۱۹۴، بیان أقسام التوبۃ)۔