خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
ویزےکےبدلےزمینرہنرکھنا
سوال۱:۔
زید اور بکر کے درمیان اسٹامپ پر یوں معاہدہ ہوا کہ زید، بکر کے بیٹے کو دُبئی میں نوکری کے لئے ایک ویزا دُبئی سے خرید کر بکر کو دیں گے، اور ایک قطعہ زمین ویزے کی قیمت کے بدلے میں زید کو دی اور اس کا غلہ مقرّرہ مقدار زید کو دیتا ہے۔ زید نے بکر کے بیٹے کو ویزا بھی دیا اور نوکری کا انتظام بھی کردیا، لیکن اب تک زمین میں بکر کا کسان کام کرتا ہے اور سال بھر میں ایک دفعہ مقرّرہ مقدار زید کو دیتا ہے۔ اسٹامپ مذکور میں ہے کہ دو سال کے بعد ویزے کی قیمت ادا کرکے بکر، زید سے دستبردار ہوجائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں غلہ یا چاول زید کو لینا جائز ہوگا یا نہیں؟ سود ہونے کا کوئی اندیشہ تو نہیں؟ اگر ہے تو کیوں؟
سوال۲:۔
مذکورہ بالا صورت میں زید نے اپنی جیب سے چھ ہزار درہم سے ویزا خریدا اور بکر نے اس قیمت کو دو سال میں ادا کرنے کا جو عہد کیا، وہ کس طرح جائز ہوگا؟ جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب۱:۔
پہلی صورت رہن کی ہے، یعنی ویزے کے بدلے زید کے پاس دو سال کے لئے زمین رہن رکھی گئی، رہن کی زمین کا منافع قرض کے بدلے وصول کرنا سود ہے، پس زید کے لئے اس زمین کا منافع حلال نہیں۔(۱)
جواب۲:۔
جتنی قیمت زید نے ویزے کی ادا کی ہے، اتنی قیمت مقرّرہ تاریخ کو ادا کردی جائے، اگر زید قیمت کے بدلے غلہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے، اور غلے کی مقدار جو بھی فریقین کے درمیان طے ہوجائے، صحیح ہے۔(۲)
- (۱) الرھن شرعًا حبس شیء مالی بحق یمکن إستیفائہ (قولہ بحق) أی بسبب حق مالی (لَا إنتفاع بہ مطلقا) لَا بإستخدام ولَا سکنٰی ولَا لبس ولَا إجارۃ ولَا إعارۃ سواءٌ کان من مرتھن أو راھن۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۸۲)۔ أیضًا: لَا یحل لہ أن یتنفع بشیء منہ بوجہ من الوجوہ وإن أذن لہ الراھن لأنہ أذن بہ فی الربا لأنہ یستوفی دینہ کاملًا، فتبقی لہ المنفعۃ فضلا فیکون ربا۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۸۲، کتاب الرھن)۔
- (۲) ھو (أی البیع) مبادلۃ المال بالمال بالتراضی۔ (البحر الرائق ج:۵ ص:۴۲۹، کتاب البیع)۔ وفی الھندیۃ: أما تعریفہ فبمادلۃ المال بالمال بالتراضی۔ (فتاویٰ ھندیۃ ج:۳ ص:۲، کتاب البیوع)۔ کلٌ یتصرف فی ملکہ کیف یشاء۔ (شرح المجلۃ ص:۶۵۴ رقم المادّۃ:۱۱۹۲)۔

