بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

کیا‌ملازم‌آدمی‌فارغ‌وقت‌میں‌بچوں‌کو‌ٹیوشن‌پڑھا‌سکتا‌ہے؟

سوال:۔

میں کسی اِدارے میں ملازمت کرتا ہوں اور میری نامعقول تنخواہ ہے، اور گھر کی فیملی زیادہ ہے، گھر کا واحد سہارا ہوں، فارغ ٹائم میں بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہوں، اور میں حافظِ قرآن ہوں، بچوں کو قرآنی تعلیم دیتا ہوں، جو تنخواہ ملتی ہے اس سے اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرتا ہوں، آپ قرآن حدیث کی روشنی میں بتائیں ٹیوشن فیس لینا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب:۔

ٹیوشن ایک جزوقتی ملازمت ہے، پس فارغ وقت میں ٹیوشن پڑھائی جائے تو اس کی اُجرت لینا جائز ہے۔(۱)

  1. (۱)ویفتی الیوم بصحتھا لتعلیم القرآن والفقہ والْإمامۃ والأذان۔ (قولہ ویفتی الیوم بصحتھا لتعلیم القرٓان إلخ) قال فی الھدایۃ: وبعض مشایخنا رحمھم اللہ تعالٰی استحسنوا الْإستئجار علٰی تعلیم القرآن الیوم لظھور التوانی فی الأمور الدینیۃ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۶ ص:۵۵، مطلب فی الْإستئجار علی الطاعات، أیضًا: کفایۃ المفتی ج:۷ ص:۳۲۶، ج:۷ ص:۳۱۶، کتاب المعاش)۔