خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
ٹیوشنپڑھانےکیاُجرتلیناجائزہے
سوال:۔
جو ٹیچرز حضرات بچوں کو اپنے گھروں پر ٹیوشن پڑھاتے ہیں، کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ حالانکہ اسکول سے اچھی تنخواہ بھی لیتے ہیں، اور پھر فی لڑکا ایک سو پچاس روپے ٹیوشن کا لیتے ہیں، قرآن وحدیث کی رُو سے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔
اکثر قاری حضرات بھی لوگوں کے گھروں پر جاکر قرآن مجید پڑھاتے ہیں، مسجدوں سے بھی اچھی تنخواہ لیتے ہیں، ان کے لئے یہ جائز ہے یا کہ ناجائز؟
جواب:۔
ٹیوشن پڑھانے کی اُجرت لینا جائز ہے۔(۱)
- (۱) ویفتی الیوم بصحتھا لتعلیم القرآن والفقہ والْإمامۃ والأذان۔ (قولہ ویفتی الیوم بصحتھا لتعلیم القرٓان إلخ) قال فی الھدایۃ: وبعض مشایخنا رحمھم اللہ تعالٰی استحسنوا الْإستئجار علٰی تعلیم القرآن الیوم لظھور التوانی فی الأمور الدینیۃ۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۶ ص:۵۵، مطلب فی الْإستئجار علی الطاعات، أیضًا: کفایۃ المفتی ج:۷ ص:۳۲۶، ج:۷ ص:۳۱۶، کتاب المعاش)۔

