خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
واپسیکیشرطپرلیہوئیچیزفروختکرنا
سوال:۔
ایک آدمی جو کہ چلتے پھرتے سامان فروخت کرتا، ایک دُکان دار سے اس طرح نقد ادائیگی پر سامان خریدتا ہے، مثلاً صبح وہ دُکان دار سے ۱۰ گھڑیاں خریدتا ہے اور ساتھ یہ کہہ دیتا ہے کہ اگر شام تک مجھ سے ساری گھڑیاں فروخت ہوجاتی ہیں تو ٹھیک ہے اور اگر ان میں سے ایک یا دو یا کتنی بھی رہ جائیں تو آپ کو ان گھڑیوں کی قیمت منافع لئے بغیر واپس کرنی ہے۔ یعنی جس قیمت میں دُکان دار نے اس کو فروخت کی تھیں اسی قیمت میں واپس لے لیتا ہے اور یہ سلسلہ ہر روز اسی طرح جاری رہتا ہے۔
ہمارے ہاں بعض علماء کا خیال ہے کہ یہ طریقہ جائز نہیں ہے، لہٰذا قرآن وسنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
جواب:۔
یہ طریقہ صحیح ہے، جو گھڑیاں بک جائیں ان کا منافع متعین طور پر اس کو ملے گا، اور جو نہیں بکتیں اس کو واپس کردی جائیں گی، اور یہ اِقالہ ہوگا، گویا یہ بیع بشرط اِقالہ ہے،(۱) واللہ اعلم!
- (۱) وتصح بمثل الثمن الأوّل ۔۔۔إلخ۔ (درمختار، باب الْإقالۃ ج:۵ ص:۱۲۴)۔ أیضًا: الْإقالۃ جائزۃ فی البیع بمثل الثمن الأوّل لأن العقد حقھما فیملکان رفعہ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۱۰ باب الْإقالۃ)۔

