بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

کیا‌اِسلام‌نے‌ہمیں‌کوئی‌معاشی‌نظام‌نہیں‌دیا

سوال:۔

میں سندھ یونیورسٹی جامشورو میں بی بی اے آنرز سالِ سوم کا طالب علم ہوں۔ پچھلے دِنوں میں نے ایک سوشلزم کے حامی پروفیسر کے لیکچر میں شرکت کی، بقول اس کے سوشلزم ایک طریقۂ حکومت ہے، اور اِسلام نے ہمیں کوئی بھی معاشی نظام اِختیار کرنے سے منع نہیں کیا، اور نہ ہی کوئی ایسا جامع معاشی نظام اِسلام نے ہمیں دیا ہے، لہٰذا حکومتِ پاکستان کو سوشلزم طرزِ حکومت اِختیار کرنی چاہئے، جس کے تحت ہر چیز مملکت کی ملکیت ہو اور حکومت ہی ہر شخص کی بنیادی ضروریات کی ذمہ دار ہو۔ اور بھی بہت سے فوائد پروفیسر صاحب نے گنوادئیے، مثلاً اس سے بے روزگاری ختم ہوجائے گی، غربت ختم ہوجائے گی، مہنگائی ختم ہوجائے گی۔ ہمیں علم نہ ہونے کے باعث اس وقت یہ ماننا پڑا کہ سوشلزم طرزِ حکومت بالکل صحیح ہے۔

جواب:۔

سوشلزم نظام رُوس میں فیل ہوچکا ہے، اور جس جس جگہ یہ نظام رائج ہوا، اِنسانوں کو غلام بنادیا گیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہماری دُنیا اور آخرت کے لئے بہترین نظام لے کر آئے، مگر ہم نے اپنی عقل بھی بگاڑلی، شکل بھی بگاڑلی، ہمارے پاس اب نہ دین ہے، نہ ایمان ہے، نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ کار ہے، اب آپ کےپروفیسر صاحب جو چاہے کہتے پھریں، ان بیچاروں نے دِین کو سمجھا ہی نہیں، میں ان کو بھی اور آپ کو بھی مشورہ دُوں گا کہ تبلیغی جماعت میں تین چلے لگالیں۔