بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خرید‌و‌فروخت‌کے‌متفرّق‌مسائل

افیون‌کا‌کاروبار‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

عرض یہ ہے کہ میرا ایک دوست جو کہ پشاور کا رہنے والا ہے، وہ کہتا ہے کہ پشاور میں افیون کا کاروبار عام ہے، اور وہاں کے مولوی صاحبان بھی کہتے ہیں کہ افیون حرام نہیں ہے، اور وہاں بہت سے لوگ افیون کا کاروبار کرتے ہیں۔ آپ براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ کیا افیون حرام ہے یا نہیں؟ اور اگر حرام ہے تو اس کو دوا کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:۔

افیون کا استعمال دوا میں جائز ہے، اور اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے، شرط یہ ہے کہ اسی مقصد کے لئے ہو،(۱) مثلاً: اگر کسی خاص آدمی کے متعلق معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے ہیروئن بناتا ہے تو پھر اس کو نہیں فروخت کرنا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) وصح بیع غیر الخمر مما مرّ ومفادہ صحۃ بیع الحشیشۃ والأفیون قلت وقد سئل ابن نجیم عن بیع الحشیشۃ ھل یجوز؟ فکتب لَا یجوز، فیحمل علٰی أن مرادہ بعدم الجواز عدم الحل‘‘ (الدر المختار) (قولہ صح بیع غیر الخمر) عندہ خلافا لھما فی البیع والضمان لٰـکن الفتویٰ علٰی قولہ فی البیع وعلٰی قولھما فی الضمان ان قصد المتلف الحسبۃ، ذالک یعرف بالقرائن، وإلّا فعلٰی قولہ کما مر فی التاترخانیۃ وغیرھا۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۵۴، کتاب الأشربۃ)۔
  2. (۲) الأمور بمقاصدھا: یعنی أن الحکم الذی یترتب علٰی أمر یکون علٰی مقتضٰی ما ھو المقصود من ذٰلک الأمر۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ص:۱۷ المقالۃ الثانیۃ، طبع حبیبیہ کوئٹہ)۔