خریدوفروختکےمتفرّقمسائل
مانگےکیچیزکاحکم
سوال:۔
اگر کسی شخص کو کوئی چیز کچھ عرصے کے لئے (مدّت مقرّر نہیں ہے) مستعار دی جائے اور ایک طویل عرصہ گزرنے کے بعد (چیز کی واپسی نہ ہونے کی صورت میں) دونوں فریقین کی مرضی سے اس چیز کا کچھ ماہانہ معاوضہ مقرّر کرلیا جائے، بعد میں معاوضہ بھی وصول نہ ہو اور آخرکار ایک طویل عرصہ بعد تنگ آکر مستعار دینے والا شخص چیز سے مکمل طور پر اپنی دستبرداری کا اعلان کردے، (یاد رہے کہ یہ اعلان ہر طرف سے مایوسی کے بعد ہو، جبکہ نہ تو چیز کی واپسی کی اُمید ہو اور نہ ہی معاوضہ وصول ہونے کی) اس صورت میں ماہانہ معاوضہ کی رقم قرض میں شمار کی جائے گی (دستبرداری کے اعلان کے وقت تک کی رقم) یا اس کے حصول سے مایوس ہوجانا چاہئے؟ دُوسری بات یہ کہ ماہانہ معاوضہ اس وقت سے شمار کیا جائے جس وقت چیز مستعار دی گئی تھی یا اس وقت سے جب معاوضہ طے کیا گیا۔
جواب:۔
کسی سے جو چیز مانگ کرلی جائے اس کا واپس کرنا واجب ہے۔(۱) اور جو شخص اس کی واپسی میں لیت و لعل کرے وہ خائن اور غاصب ہے، اس کے لئے اس چیز کا استعمال حرام ہے۔(۲)
۲:۔ فریقین کی رضامندی سے اگر اس کا کچھ معاوضہ طے ہوجائے تو یہ بیع ہوگی اور طے شدہ شرط کے مطابق اس کا ادا کرنا لازم ہوگا۔
۳:۔ معاوضہ کی جتنی قسطیں ادا ہوگئیں وہ تو چیز کے اصل مالک کے لئے حلال ہیں۔ اور دستبرداری کے اعلان کا مطلب اگر یہ تھا کہ بقیہ قسطیں معاف کردی گئیں، تو معاف ہوگئیں، ورنہ اس کے ذمہ واجب الادا ہوں گی۔(۳)
۴:۔ جتنا معاوضہ فریقین کی رضامندی سے طے ہو، صحیح ہے، اس لئے سوال کا یہ حصہ مبہم ہے کہ ’’ماہانہ معاوضہ اس وقت سے شمار کیا جائے‘‘۔
- (۱) قال أی القدوری وللمعیر أن یرجع فی العاریۃ متی شاء ۔۔۔ لقولہ علیہ السلام المنحۃ مردودۃ والعاریۃ مؤداۃ ۔۔۔ قولہ مردودۃ یجب ردھا ۔۔۔إلخ۔ (البنایۃ فی شرح الھدایۃ ج:۱۲ ص:۴۷۳ کتاب العاریۃ، طبع مکتبہ حقانیہ)۔ أیضًا: ان المستعیر لَا یملک الْإیداع کرد مستعار غیر نفیس إلٰی دار مالکہ فإن ھٰذا تسلیم بخلاف المستعار النفیس کالجواھر حیث الا رد الا إلی المعیر بخلاف رد الودیعۃ والمغصوب إلٰی دار مالکھا فإن ھٰذا لَا یکون تسلیمًا بل لَا بد من الرد إلی المالک۔ (شرح الوقایۃ ج:۳ ص:۲۷۷ کتاب العاریۃ)۔
- (۲) ألَا لَا یحل مال امرئٍ ملسم إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکوٰۃ ج:۱ ص:۲۵۵)۔ فإن طلبھا ربھا فحسبھا وھو قادر علٰی تسلیمھا صار غاصبًا۔ (ملتقی الأبحر ومجمع الأنھر ج:۳ ص:۴۷۰)۔
- (۳) وفی الملتقط علیہ الف ثمن جعلہ الطالب نجومًا أن أخل بنجم حل الباقی فالأمر کما شرطا۔ (بحر ج:۵ ص:۲۸۰)۔ وفی الھدایۃ یجوز للبائع أن یحط عن الثمن۔ (الھدایۃ، کتاب البیوع ص:۷۵)۔

