رشوت
ملازمینکےلئےسرکاریتحفہجائزہے
سوال:۔
’’جنگ‘‘ اخبار میں ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ کے کالم میں آپ نے جو جواب ’’تحفہ یا رشوت‘‘ کے سلسلے میں شائع کیا ہے، اس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازم ہے اور اپنے کام میں وہ بھرپور محنت کرتا ہے تو ادارہ اس کی خدمات سے خوش ہوکر اگر اسے اضافی تنخواہ یا کوئی تحفہ دیتا ہے تو یہ رشوت میں شامل نہیں ہوگا، حالانکہ اگر یہ اسی عہدے پر قائم نہیں ہوتا تو یقینا نہیں ملتا، کیونکہ اسے اپنی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ لیکن اب چونکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے زیادہ محنت اور خلوص سے کام کر رہا ہے اور انتظامیہ اس کی حوصلہ افزائی کے لئے انعام دیتی ہے تو یہ رشوت میں شامل نہیں ہوگا، کیونکہ اسلام ہمیشہ محنت کشوں کی حوصلہ افزائی کی تاکید کرتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف یہ کہ کام کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے بلکہ انسان مزید بُرائیوں سے بھی بچتا ہے، لہٰذا مجھ گنہگار کی ناقص رائے ہے کہ آپ مزید اپنے اعلیٰ علمی تجربوں کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
جواب:۔
حکومت کی طرف سے جو کچھ دیا جائے، اس کے جائز ہونے میں کیا شبہ ہے؟ مگر سرکاری ملازم لوگوں کا کام کرکے ان سے جو ’’تحفہ‘‘ وصول کرے، وہ رشوت ہی کی ایک صورت ہے۔(۱) ہاں! اس کے دوست احباب یا عزیز و اقارب تحفہ دیں تو وہ واقعی تحفہ ہے۔(۲) خلاصہ یہ کہ گورنمنٹ یا انتظامیہ اپنے ملازمین کو جو کچھ دیتی ہے، خواہ تنخواہ ہو، بونس ہو، یا انعام ہو، وہ سب جائز ہے۔(۳)
- (۱) (ویرد ھدیۃ) ۔۔۔ قال عمر بن عبدالعزیز: کانت الھدیۃ علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھدیۃ، والیوم رشوۃ ذکرہ البخاری ۔۔۔ وتعلیل النبی صلی اللہ علیہ وسلم دلیل علٰی تحریم الھدیۃ التی سببھا الولَایۃ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۳۷۲، مطلب فی ھدیۃ القاضی)۔
- (۲) ویرد ھدیۃ ۔۔۔ إلّا من أربع ۔۔۔ قریبہ المحرم أو ممن جرت عادتہ بذٰلک بقدر عادتہ۔ (درمختار ج:۵ ص:۳۷۴، کتاب القضاء، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۳) عن ابن الساعدی قال: إستعملنی عمر علی الصدقۃ فلما فرغت أمر لی بِعُمّالہ فقلت: إنما عملت ﷲ، قال: خذا ما أعطیت فإنی قد عملت علٰی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فعملّنی أی أعطانی عمالتی۔ (ابوداوٗد، باب أرزاق العمال ج؛۲ ص:۵۲)۔ ولَا بأس برزق القاضی لأنہ صلی اللہ علیہ وسلم بعث ابن اسید إلٰی مکۃ وفرض لہ وبعث علیًّا وفرض لہ ولأنہ محبوس لحق المسلمین فتکون نفقتہ فی مالھم۔ (ھدایۃ ج:۳ ص:۴۷۶)۔

