رشوت
مجبوراًرشوتدینےوالےکاحکم
سوال:۔
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں دوزخی ہیں۔ اگرچہ اس بارے میں بہت سی اور احادیث بھی ہوں گی۔ پاکستان میں ٹریفک پولیس اور ڈرائیور حضرات کے درمیان یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ گاڑیوں سے ماہوار رشوت لیتے ہیں، بعض جگہ جب بھی کسی چوک میں گاڑی مل جائے تو روک کر روپے لیتے ہیں۔ اگر ان کو گاڑی کے کاغذات بتادئیے جائیں، کاغذ مکمل ہونے کی صورت میں پھر بھی وہ کوئی نہ کوئی الزام لگادیتے ہیں۔ مثلاً: ’’گاڑی کا رنگ دُرست نہیں ہے، تم تیزرفتاری سے گاڑی چلاتے ہو۔‘‘ اگر ان کو رشوت ۳۰ یا ۵۰ روپے نہ دئیے جائیں اور کہہ دیا جائے کہ چالان کرو اور ہم گورنمنٹ کو فیس دیں گے تو وہ چالان سلپ پر اتنی دفعات لگادیتے ہیں کہ جب ہم مجسٹریٹ کے سامنے جاتے ہیں تو وہ ۵۰۰، ۱۰۰۰روپے تک جرمانہ کرتا ہے۔ پھر ہوسکتا ہے کہ ایک ماہ تک لائسنس کا بھی یا گاڑی کے کاغذات کا بھی پتا نہ چلے، یہ کام وہ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ان کو آئندہ روپے آرام سے دئیے جائیں۔ پھر ایک ڈرائیور مجبوری سے ۳۰ یا ۵۰ روپے دے دیتا ہے اور اس کے عوض وہ اوور لوڈ کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ گاڑی کے کاغذ نہیں رکھتے کہ کاغذ ہوتے ہوئے بھی رشوت دینی پڑتی ہے۔ میرا اس بیان سے مقصد یہ نہیں کہ ہم جرم کرتے رہیں اور روپے دیتے رہیں، بلکہ اگر کسی کا کوئی جرم ہے اور وہ روپے بھی دیتا ہے تو اسلام میں اس کا کیا مقام ہے؟ اگر سب کچھ دُرست ہونے کے باوجود صرف رشوت اس لئے دی جائے کہ وہ ناجائز تنگ کریں گے اور زیادہ روپے دینے پڑیں گے، کیا اس حدیث کی روشنی میں ڈرائیور اور پولیس والا دونوں کے لئے بس وہ حدیث ہوگی، یعنی دونوں کا جرم برابر کا ہوگا؟
جواب:۔
کوئی کام غیرقانونی تو حتی الوسع نہ کیا جائے، اس کے باوجود اگر رشوت دینی پڑے تو لینے والے اپنے لئے جہنم کا سامان کرتے ہیں، دینے والا بہرحال مجبور ہے، اُمید ہے کہ اس سے مؤاخذہ نہ ہوگا۔ اور اگر غیرقانونی کام کے لئے رشوت دی جائے تو دونوں فریق لعنت کے مستحق ہیں۔(۱)
- (۱) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی أی معطی الرشوۃ والمرتشی أی آخذھا ۔۔۔ وإنما یلحقھم العقوبۃ معًا إذا استویا فی القصد والْإرادۃ، ورشا المعطی لینال بہ إلی الظلم فأما إذا اعطی لیتوصل بہ إلٰی حق أو یدفع عن نفسہ ظلمًا فإنہ غیر داخل فی ھٰذا الوعید۔ (بذل المجھود ج:۴ ص:۳۰۷ کتاب القضاء، البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵)۔

