بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

رکشا،‌ٹیکسی‌ڈرائیور‌یا‌ہوٹل‌کے‌ملازم‌کو‌کچھ‌رقم‌چھوڑ‌دینا‌یا‌اُستاذ،‌پیر‌کو‌ہدیہ‌دینا

سوال:۔

ہمارے معاشرے میں کارکنان کو طے شدہ اُجرت کے علاوہ کچھ رقم دینے کا رواج ہے، مثال کے طور پر رکشا و ٹیکسی کے میٹر کی رقم کے علاوہ اکثر ریزگاری بچتی ہے، وہ نہ تو رکشا، ٹیکسی ڈرائیور دینا چاہتا ہے اور نہ مسافر لینا چاہتا ہے، اور وہ رقم نذرانہ، شکرانہ یا بزبان انگریزی ’’ٹپ‘‘ تصوّر کی جاتی ہے۔ ہم یہ بات معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ ڈرائیور حضرات جو رقم واجب کرایہ سے زائد لیتے ہیں وہ جائز ہے یا ناجائز؟ اس سے بڑھ کر مرید، پیر کو، شاگرد، اُستاذ کو، ہوٹل میں کھانا کھانے والا، بیرے کو دیتا ہے، آپ شرعی طور پر فرمائیں کیا یہ رقم خیرات ہے؟ دینے والے کو اس کا ثواب ملے گا؟ لینے والے کا جائز حق ہے؟

جواب:۔

اگر یہ زائد رقم خوشی سے چھوڑ دی جائے تو لینے والے کے لئے حلال ہے۔(۱) اور اپنے بزرگوں کو ہدیہ یا چھوٹوں کو تحفے کے طور پر جو چیز برضا و رغبت دی جائے وہ بھی جائز ہے۔(۲)

  1. (۱) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا یحل مال امریء إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵)۔
  2. (۲) وأما الحلال من الجانبین فھو الْإھداء للتود والمحبۃ کما صرحوا بہ، ولیس ھو من الرشوۃ ۔۔۔ قال علیہ السلام: تھادوا تحابوا۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵، کتاب القضاء، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔