رشوت
رشوتلینےوالےسےتحائفقبولکرنا
سوال:۔
ایک شخص جو کہ ساتھی ہے یا رشتہ دار ہے، نماز روزے کا پابند ہے، یعنی اَحکامِ خداوندی بجا لاتا ہے، وہ ایسے محکمے میں کام کرتا ہے جہاں لوگ کام کے عوض روپیہ دیتے ہیں، حالانکہ وہ خود مانگتا نہیں ہے، لیکن چونکہ یہ سلسلہ شروع سے چل رہا ہے اس لئے لوگ اس کو بھی بلاتے ہیں یا خود لاکر دیتے ہیں۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس رقم سے خود، اس کے علاوہ دوستوں، رشتہ داروں کو تحفہ اور اس کے علاوہ نیک کاموں میں خرچ کرتا ہے، آیا اس کا یہ دیا ہوا تحفہ یا نیک کاموں میں لگانا کہاں تک جائز ہے؟ مثال کے طور پر اگر اس نے کسی دوست یا رشتہ دار کو تحفے میں کپڑا دیا جبکہ واپسی کرنا دِل کو توڑنا ہے، جو کہ اسلام نے منع کیا ہے، اور اس کو یہ بات معلوم نہیں کہ یہ کپڑا جائز کمائی کا نہیں ہے، تو آیا اس کپڑے کو پہن کر نماز ہوجائے گی اور نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں؟
جواب:۔
کام کے عوض جو روپیہ اس کو دیا جاتا ہے وہ رشوت ہے،(۱) اس کا لینا اس کے لئے جائز نہیں۔(۲) اگر بعینہٖ اسی رقم سے کوئی چیز خرید کر وہ کسی کو تحفہ دیتا ہے تو اس کا لینا بھی جائز نہیں۔(۳) اور اگر اپنی تنخواہ کی رقم سے یا کسی اور جائز آمدنی سے تحفہ دیتا ہے تو اس کا لینا دُرست ہے۔ اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ یہ تحفہ جائز آمدنی کا ہے یا ناجائز کا؟ تو اگر اس کی غالب آمدنی صحیح ہے تو تحفہ لے لینا دُرست ہے،(۴) ورنہ احتیاط لازم ہے۔ اور اگر اس کی دِل شکنی کا اندیشہ ہو تو اس سے تو لے لیا جائے مگر اس کو استعمال نہ کیا جائے، بلکہ بغیر نیتِ صدقہ کے کسی محتاج کو دے دیا جائے۔(۵)
- (۱) وفی وصایا الخانیۃ قالوا: بذل المال لِاستخلاص حق لہ علٰی آخرہ رشوۃ۔ (بحر ج:۶ ص:۲۸۵)۔ أیضًا: وفی البرجندی: الرشوۃ مال یعطیہ بشرط أن یعینہ، والذی یعطیہ بلا شرط فھو ھدیۃ۔ (کشاف إصطلاحات الفنون ج:۱ ص:۵۹۵ طبع سھیل اکیڈمی)۔
- (۲) الحرمۃ تتعدد مع العلم بھا (وفی الشامیۃ) ۔۔۔ أما لو رأی المکاس مثلًا یأخذ من أحد شیئًا من المکس ثم یعطیہ آخر ثم یأخذ من ذٰلک الآخر آخر فھو حرام۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۸ مطلب الحرمۃ تتعدد)۔
- (۳) آکل الربا وکاسب الحرام أھدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہٖ حرام لَا یقبل ولَا یأکل ما لم یخبرہ ان ذٰلک المال أصلہ حلال۔ (عالمگیریۃ ج:۵ ص:۳۴۳، کتاب الکراھیۃ، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات)۔
- (۴) إذا کان غالب مال المھدی حلالًا فلا بأس بقبول ھدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ من حرام۔ (الأشباہ والنظائر ص:۱۲۵، طبع إدارۃ القرآن)۔
- (۵) وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ ۔۔۔إلخ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۹، مطلب فی من ورث مالًا حرامًا)۔

