بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

بخوشی‌دی‌ہوئی‌رقم‌کا‌سرکاری‌ملازم‌کو‌اِستعمال‌کرنا

سوال:۔

میں جس فرم میں ملازم ہوں، وہاں اشیاء کی نقل و حرکت کے لئے ٹرانسپورٹرز سے معاہدہ ہے، جن کا کرایہ حکومت سے منظور شدہ ہوتا ہے اور انہیں ماہانہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان کے کرایوں کے نرخ میں اضافہ کردیا گیا، لیکن منظوری میں تأخیر کی وجہ سے اس دوران کا حساب کرکے ان کو بقایا جات ادا کئے گئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جس وقت ادائیگی کے بل ادا کئے گئے، لوگوں نے ان سے مٹھائی کا مطالبہ شروع کردیا، جس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی، لیکن ان سے کہا گیا کہ ہمیں کچھ رقم دے دی جائے جس سے ہم پانچ چھ افراد پارٹی (لنچ یا ڈنر) کرسکیں۔ ان سے یہ رقم وصول کی گئی اور اس وقت یہ صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ یہ پیسے کسی اور ضمن میں نہیں بلکہ آپ کی خوشی سے مٹھائی کے طور پر لئے جارہے ہیں۔ جس پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ نہیں ہم اپنی خوشی سے دے رہے ہیں۔ ایک ٹرانسپورٹر نے اچھی خاصی رقم دی جسے تین افراد نے آپس میں تقسیم کرلیا اور باقی وصول ہونے والی رقم سے چار پانچ مرتبہ لنچ کیا گیا۔ برائے مہربانی آپ یہ وضاحت کردیں کہ یہ رقم کھانا جائز ہے جبکہ کھانے والے حضرات یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ آفس میں افسرانِ بالا کو یا اور لوگوں کو اس بات کا علم نہ ہو، جبکہ اس میں کسی اور منفعت کو دخل نہیں، ہمارا ادارہ ایک نجی ادارہ ہے۔

جواب:۔

اس قسم کی شیرینی جو سرکاری اہل کاروں کو دی جاتی ہے، رشوت کی مد میں آتی ہے، اس سے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ یہ شیرینی نہیں بلکہ زہر ہے۔(۱)

  1. (۱) ھدایا العمل کلھا حرام۔ (المطالب العالیۃ لِإبن حجر ج:۲ ص:۲۲۲)۔ (فقام النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ وقال: ما بالُ العامل نبعثہ) علی العمل فیجیء بالمال (فیقول: ھٰذا لکم وھٰذا اھدی لی، ألّا جلس فی بیت اُمّہ وأبیہ فینظر أیھدی لہ أم لَا؟) وظاھر أنہ إذا جلس فی بیت اُمّہ وأبیہ لَا یھدی لہ قطعًا ویقینًا فھٰذا الذی اھدی لہ ھو للحکومۃ وھو الرشوۃ ۔۔۔إلخ۔ (بذل المجھود شرح ابوداوٗد ج:۴ ص:۱۲۰ کتاب الخراج)۔