رشوت
ٹھیکےداروںسےرشوتلینا
سوال:۔
میں بلڈنگ ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر ہوں، ملازمت کی مدّت تین سال ہوگئی ہے، ہمارے یہاں جب کوئی سرکاری عمارت تعمیر ہوتی ہے تو ٹھیکے دار کو ٹھیکے پر کام دے دیا جاتا ہے، اور ہم ٹھیکے دار سے ایک لاکھ ۲۰ ہزار روپے کمیشن لیتے ہیں، جس میں سب کا حصہ ہوجاتا ہے (یعنی چپراسی سے لے کر چیف انجینئر تک)، اس میں ۲ فیصد حصہ میرا بھی ہوتا ہے، ایک لاکھ پر دو ہزار، یہ ماہانہ تنخواہ کے علاوہ ہوتا ہے۔ اس وقت میرے زیر نگرانی ۲۰ لاکھ کا کام ہے اور ہر ماہ ۴ لاکھ کے بل بن جاتے ہیں، اس طرح ۸ہزار روپے تنخواہ کے علاوہ مجھ کو مل جاتے ہیں، جبکہ تنخواہ صرف ۱۷۰۰ روپے ہے۔ ٹھیکے دار حضرات کام کو دئیے ہوئے شیڈول کے مطابق نہیں کرتے، اور ناقص مٹیریل استعمال کرتے ہیں۔ سیمنٹ، لوہا وغیرہ گورنمنٹ کے دئیے ہوئے معیار کے مطابق نہیں لگاتے، حتیٰ کہ بہت سی اشیاء ایسی ہوتی ہیں جن کا صرف کاغذات پر اِندراج ہوتا ہے اور درحقیقت جائے وقوع پر اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ لیکن ہم لوگوں کو غلط اِندراج کرنا پڑتا ہے اور غلط تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ جب ہم کسی منصوبے کا اسٹیٹمنٹ بناتے ہیں تو اس کو پہلے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے پاس لے جانا پڑتا ہے، جہاں پر سائٹ انچارج سے اس کو پاس کرانے کے لئے آفیسر اور اسٹاف کو کام کی نسبت سے کمیشن دینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد وہ فائل چیف انجینئر کے آفس میں جاتی ہے، وہاں اس کو بھی کام کی نسبت سے کمیشن دینا پڑتا ہے۔ اور اس کا ایک اُصول بنایا ہوا ہے، اس کے بغیر اسٹیٹمنٹ پاس نہیں ہوسکتا۔ اس اعتبار سے ہم لوگوں کو بھی ٹھیکے داروں سے مجبوراً کمیشن لینا پڑتا ہے، ورنہ ہم اگلے مراحل میں ادائیگی کہاں سے کریں۔ ٹھیکے دار اس کمی کو پورا کرتا ہے خراب مال لگاکر اور کام میں چوری کرکے، جس کا ہم سب کو علم ہوتا ہے۔ لہٰذا اس طرح ہم جھوٹ، بددیانتی، رشوت، سرکاری رقم (جو کہ درحقیقت عوام کی ہے) میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عام طور پر اس کو بُرا بھی نہیں سمجھا جاتا۔ میرا دِل اس عمل سے مطمئن نہیں ہے۔ براہِ کرم میری سرپرستی فرماویں کہ آیا میں کیا کروں؟ کیا دُوسروں کو ادا کرنے کے لئے کمیشن لے لوں اور اس میں سے اپنے پاس بالکل نہ رکھوں؟ یا کچھ اپنے پاس بھی رکھوں؟ یا ملازمت چھوڑ دُوں؟ کیونکہ مذکورہ بالا حالات میں سارے غلط اُمور کرنا پڑتے ہیں۔
جواب:۔
جن قباحتوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان کی اجازت تو نہ عقل دیتی ہے نہ شرع، نہ قانون نہ اخلاق، اگر آپ ان لعنتوں سے نہیں بچ سکتے تو اس کے سوا اور کیا کہہ سکتا ہوں کہ نوکری چھوڑ دیجئے، اور کوئی حلال ذریعۂ معاش اپنائیے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوگا کہ آپ نوکری چھوڑ دیں گے تو بچوں کو کیا کھلائیں گے؟ اس کے دو جواب ہیں۔ ایک یہ کہ دُوسری جگہ حلال ذریعہ معاش تلاش کرنے کے بعد ملازمت چھوڑئیے، پہلے نہ چھوڑئیے۔ دُوسرا جواب یہ ہے کہ آپ ہمت سے کام لے کر اس بُرائی کے خلاف جہاد کیجئے اور رِشوت کے لینے اور دینے سے انکار کردیجئے۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کے محکمے کے تمام شریکِ کار اَفسرانِ بالا سے لے کر ماتحتوں تک آپ کے خلاف ہوجائیں گے، اور آپ کے افسر آپ کے خلاف جھوٹے سچے الزامات عائد کرکے آپ کو برخاست کرانے کی سعی کریں گے۔ اس کے جواب میں آپ اپنے مندرجہ بالا خط کو سنوار کر مع ثبوتوں کے صفائی نامہ پیش کردیجئے، اور اس کی نقول صدرِ مملکت، وزیراعظم، صوبائی حکومت کے اَربابِ اقتدار اور ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی وغیرہ کو بھیج دیجئے۔ زیادہ سے زیادہ آپ کا محکمہ آپ کو نوکری سے الگ کردے گا، لیکن پھر اِن شاء اللہ آپ پر زیادہ خیر و برکت کے دروازے کھلیں گے۔ اگر آپ محکمے کی ان زیادتیوں سے کسی بڑے اَربابِ حل و عقد کو اپنا ہم نوا بنانے میں کامیاب ہوگئے تو آپ کی نوکری بھی نہیں جائے گی، البتہ آپ کو کسی غیراہم کام پر لگادیا جائے گا اور آپ کو ۱۷۰۰ روپے میں گزر اوقات کرنی پڑے گی، جس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے، بشرطیکہ آپ خالی وقت میں کوئی کام کرسکیں۔ تو میرے عزیز! جس طرح آپ ہزاروں میں سے ایک ہیں جو مجھ کو ایسا تقوے والا خط لکھ سکتے ہیں، اسی طرح کسی نہ کسی کو اس اندھیرنگری میں حق کی آواز اُٹھانی ہے، اللہ کی مدد آپ کے شاملِ حال ہو اور ہم خیال بندے آپ کی نصرت کریں۔

