رشوت
سرکاریگاڑیاںٹھیککرنےوالےکامجبوراً’’الف‘‘پُرزےکیجگہ’’ب‘‘لکھنا
سوال:۔
میں ایک فوجی اِدارے کا سربراہ ہوں، اس اِدارے کا بنیادی کام گاڑیوں کی مرمت کرنا ہے، حکومت نے کچھ پیسے مجھے دے رکھے ہیں، جن میں سے مجھے اِجازت ہے کہ میں گاڑیوں کے فاضل پرزہ جات خرید کر گاڑیوں کی مرمت کرواسکوں۔ اب میں یوں کرتا ہوں کہ گاڑی کے اندر ’’الف‘‘ پُرزہ لگواتا ہوں، لیکن لکھتے وقت لکھتا ہوں کہ ’’ب‘‘ پُرزہ لگوایا ہے۔ اس عمل کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ حکومت جو رقم دیتی ہے اسی سے مرمت کرنا ہوتی ہے، اس ترکیب سے گاڑیوں کی مرمت تیزی سے ہوجاتی ہے، میں سارا پیسہ حکومت ہی کے کام میں صَرف کرتا ہوں، کیونکہ اگر میں ایسا نہ کروں تو سرکاری گاڑیاں کئی کئی دِن کھڑی رہیں اور ملک کا نقصان ہو۔ کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
جواب:۔
آپ کی پوری کارروائی میں گورنمنٹ کو دھوکادہی نہیں ہے، البتہ ’’الف‘‘ کی جگہ ’’ب‘‘ اور ’’ب‘‘ کی جگہ ’’الف‘‘ لکھنا غلط بیانی اور جھوٹ ہے، اور یہ جھوٹ بھی آپ بلاوجہ بولتے ہیں، کیونکہ آپ اپنے اعلیٰ افسران سے مل کر اس جھوٹ سے بچنے کی کوئی تدبیر بھی اِختیار کرسکتے ہیں۔

