رشوت
ٹھیکےدارکاافسرانکورِشوتدینا
سوال:۔
میں سرکاری ٹھیکے دار ہوں، مختلف محکموں میں پانی کی ترسیل کی لائنیں بچھانے کے ٹھیکے ہم لیتے ہیں، ہم جو ٹھیکے لیتے ہیں وہ باقاعدہ ٹینڈر فارم جمع کراکے مقابلے میں حاصل کرتے ہیں، مقابلہ یوں کہ بہت سے ٹھیکے دار اس ٹھیکے کے لئے اپنی اپنی رقم لکھتے ہیں اور بعد میں ٹینڈر سب کے سامنے کھولے جاتے ہیں، جس کی قیمت کم ہوتی ہے، سرکار اسے ٹھیکہ دے دیتی ہے۔ اس کام میں ہم اپنا ذاتی حلال کا پیسہ لگاتے ہیں اور سرکار نے پانی کے پائپوں کا جو معیار مقرّر کیا ہے وہی پائپ لیتے ہیں جو کہ محکمے سے منظور شدہ کمپنی سے خریدا جاتا ہے، اور جو قسم محکمے والے مقرّر کرتے ہیں، وہی خریدتے ہیں۔ ہم اپنے طور پر کام ایمان داری سے کرتے ہیں، مگر چند ایک چھوٹی چیزیں مثلاً پائپ جوڑنے والا آلہ جس کی موٹائی محکمے والے ۱۰ اِنچ مقرّر کرتے ہیں، وہ ہم پانچ اِنچ موٹائی کا لگادیتے ہیں۔ اس سے لائن کی مضبوطی میں فرق نہیں پڑتا لیکن ہمارے ساتھ مجبوری یہ ہے کہ محکمے کے افسران جو کہ اس کام پر مامور ہوتے ہیں ان کو ہمیں لازماً افسران کے عہدوں کے مطابق ٹینڈر کی قیمت کے ۲ فیصد سے ۵ فیصد تک پیسے دینے پڑتے ہیں، جبکہ وہ سرکاری ملازم ہیں اور محکمے سے تنخواہ لیتے ہیں، اور جو پیسے وہ ہم سے لیتے ہیں وہ سرکار کے خزانے میں نہیں بلکہ ان کی جیبوں میں جاتے ہیں۔ اگر ہم انہیں یہ پیسے نہ دیں تو وہ کام میں رُکاوٹ ڈالتے ہیں، اور اگر ہم سو فیصد کام صحیح کریں جب بھی اس میں نقص نکال کر ہمارے پیسے رُکوادیتے ہیں اور آئندہ کے لئے کاموں میں رُکاوٹ ڈال دیتے ہیں۔ آپ سے گزارش یہ ہے کہ آپ یہ بتائیے کہ ہماری یہ آمدنی حلال ہے کہ نہیں؟ کیونکہ اگر ہم افسران کو پیسہ نہ دیں تو وہ ہماری سو فیصد ایمان داری کے باوجود ہمارے کام بند کرادیتے ہیں اور ہمارے بل رُکوادیتے ہیں۔ کام شروع سے ہم اپنے ذاتی پیسوں سے کرتے ہیں، اور تکمیل کے دوران سرکار ہمیں کچھ ادائیگی کرتی رہتی ہے، جبکہ رقم کا بڑا حصہ ہمارا ذاتی پیسہ ہوتا ہے۔
جواب:۔
رشوت ایک ایسا ناسور ہے جس نے پورے ملک کا نظام تلپٹ کر رکھا ہے، جن افسروں کے منہ کو یہ حرام خون لگ جاتا ہے وہ ان کی زندگی کو بھی تباہ کردیتا ہے اور ملکی انتظام کو بھی متزلزل کردیتا ہے۔ جب تک سرکاری افسروں اور کارندوں کے دِل میں اللہ تعالیٰ کا خوف، اور قیامت کے دن کے حساب و کتاب، اور قبر کی وحشت و تنہائی میں ان چیزوں کی جواب دہی کا اِحساس پیدا نہ ہو، تب تک اس سرطان کا کوئی علاج نہیں کیا جاسکتا۔ آپ سے یہی کہہ سکتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو ان کتوں کو ہڈی ڈالنے سے پرہیز کریں، اور جہاں بے بس ہوجائیں وہاں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں۔

