رشوت
محکمۂفوڈکےراشیافسرکیشکایتافسرانِبالاسےکرنا
سوال:۔
میں ایک دُکان دار ہوں، ہمارے پاس ’’کے ایم سی‘‘ کی طرف سے فوڈ انسپکٹر پسی ہوئی چیزیں لیبارٹری پر چیک کرانے کے لئے لے جاتے ہیں۔ ہم میں کچھ دُکان دار ایسے بھی ہیں جو ملاوٹ کرکے اشیاء فروخت کرتے ہیں اور فوڈ انسپکٹر کو ہر ماہ کچھ رقم رشوت کے طور پر دیتے ہیں۔ اب جو دُکان دار ملاوٹ نہیں کرتے، ان کی اشیاء میں نادانستہ طور پر مٹی کے ذرّات یا کوئی اور چیز مکس ہوجاتی ہے جو ظاہری طور پر نظر نہیں آتی اور لیبارٹری میں پتا چل جاتا ہے اور سیمپل فیل ہوجاتا ہے۔ کیا اس صورت میں ہمیں انسپکٹر صاحب کو ماہانہ رقم دینا چاہئے کہ نہیں؟
جواب:۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ ایسے راشی افسر کی شکایت حکامِ بالا سے کی جائے؟ رشوت کسی بھی صورت میں دینا جائز نہیں۔(۱)
- (۱) الراشی والمرتشی فی النار۔ (کنز العمال ج:۶ ص:۱۱۳ رقم الحدیث:۱۵۰۷۷، أیضًا: المطالب العالیۃ ج:۲ ص:۲۴۹، باب ذم الرشوۃ)۔

