بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

اِنکم‌ٹیکس‌کے‌محکمے‌کو‌رِشوت‌دینا

سوال:۔

اِنکم ٹیکس کا محکمہ خصوصاً اور دیگر سرکاری محکمے بغیر رشوت دئیے کوئی کام نہیں کرتے، جائز کام کے لئے بھی رشوت طلب کرتے ہیں، اگر رشوت نہ دی جائے تو ہر طرح سے پریشان کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے، مجبوراً آدمی رشوت دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اب گناہ کس پر ہوگا؟ دینے والے پر بھی، یا صرف لینے والے پر؟ (یہاں پر واضح کر دُوں کہ کوئی بھی شخص اپنی جائز اور محنت کی آمدنی سے رشوت دینے کے لئے خوش نہیں، بلکہ مجبور ہوکر دینے پر تیار ہونا پڑتا ہے، بلکہ مجبور کیا جاتا ہے)۔

جواب:۔

رشوت اگر دفعِ ظلم کے لئے دی گئی ہو تو اُمید کی جاتی ہے کہ دینے والے کے بجائے صرف لینے والے کو گناہ ہوگا۔(۱)

  1. (۱) لَا بأس بالرشوۃ إذا خاف علٰی دینہٖ۔ قال الشامی: عبارۃ المجتبٰی لمن یخاف، وفیہ أیضًا دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہٖ ومالہ ولِاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۲۴ حظر والْإباحۃ، طبع سعید، البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵، طبع بیروت)۔