بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

کالج‌کے‌پرنسپل‌کا‌اپنے‌ماتحتوں‌سے‌ہدیے‌وصول‌کرنا

سوال:۔

میں ایک مقامی کالج میں پرنسپل ہوں، میرے ماتحت بہت سے لیکچرار، کلرک اور عملہ کام کرتا ہے۔ وہ لوگ مجھے وقتاً فوقتاً تحفے دیتے رہتے ہیں، جن میں برتن، مٹھائیوں کے ڈَبے، بڑے بڑے کیک اور مختلف جگہوں کی سوغات میرے لئے لاتے ہیں، جن میں پاکستان کے مختلف شہروں کی چیزیں ہوتی ہیں، اس کے علاوہ ایڈمیشن کے وقت لوگوں کے والدین کافی مٹھائیوں کے ڈَبے لاتے ہیں اور میں خاموشی سے لے کر رکھ لیتا ہوں۔ میرے گھر والے اور رشتہ دار یہ چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ چیزیں نہیں لینی چاہئیں کیونکہ یہ رشوت کا معزّز طریقہ ہے۔ جو چیزیں وہ لوگ اپنی خوشی سے مجھے بڑا سمجھ کر دے جاتے ہیں، بتائیے میں لوں یا انکار کردُوں؟ میری بیوی بھی یہ کہتی ہے کہ یہ چیزیں اپنی خوشی سے لاتے ہیں، لینا ہمارا فرض ہے، ہم ان سے مانگتے نہیں۔ آپ جواب ضرور دیں۔

جواب:۔

جو لوگ ذاتی تعلق و محبت اور بزرگ داشت کے طور پر ہدیہ پیش کرتے ہیں وہ تو ہدیہ ہے، اور اس کا استعمال جائز اور صحیح ہے۔(۱) اور جو لوگ آپ سے آپ کے عہدے کی وجہ سے منفعت کی توقع پر مٹھائی پیش کرتے ہیں، یعنی آپ نے ان کو اپنے عہدے کی وجہ سے نفع پہنچایا ہے یا آئندہ اس کی توقع ہے، یہ رشوت ہے، اس کو قبول نہ کیجئے، نہ خود کھائیے، نہ گھر والوں کو کھلائیے۔ اور اس کا معیار یہ ہے کہ اگر آپ اس عہدے پر نہ ہوتے، یا اس عہدے سے سبکدوش ہوجائیں تو کیا پھر بھی یہ لوگ آپ کو ہدیہ دیا کریں گے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو یہ ہدیے بھی رشوت ہیں، اور اگر ان ہدیوں کا آپ کے منصب اور عہدے سے کوئی تعلق نہیں تو یہ ہدیے آپ کے لئے جائز ہیں۔(۲)

  1. (۱) وأما الحلال من الجانبین فھو الْإھداء للتودد والمحبۃ کما صرحوا بہ ولیس ھو من الرشوۃ لما علمت ۔۔۔ وقال علیہ الصلاۃ والسلام: تھادوا تحابوا۔ (بحر ج:۶ ص:۲۸۵، کتاب القضاء)۔
  2. (۲) عن أبی حمید الساعدی قال: إستعمل النبی صلی اللہ علیہ وسلم رجلًا من الْازد یقال لہ ابن البنیۃ علی الصدقۃ فلما قدم قال: ھٰذا لکم وھٰذا أُھدیٰ لی، فخطب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: أما بعد! فإنی أستعمل رجلًا منکم علٰی أمور مما ولَانی اللہ، فیأتی أحدھم، فیقول: ھٰذا لکم وھٰذہ ھدیۃ أُھدیت لی، فھلا جلس فی بیت أبیہ أو فی بیت اُمّہٖ فینظر أیھدیٰ لہ أم لَا ۔۔۔إلخ۔ (مشکوٰۃ، کتاب الزکاۃ، الفصل الأوّل ج:۱ ص:۱۵۶، أبو داوٗد ج:۲ ص:۵۳)۔ وفی بذل المجھود شرح سنن أبی داوٗد ج:۴ ص:۱۲۰: وظاھر أنہ إذا جلس فی بیت اُمّہ وأبیہ لَا یھدیٰ لہ قطعًا ویقینًا، فھٰذا الذی أھدیٰ لہ ھو للحکومۃ وھو الرشوۃ۔ (بذل ج:۴ ص:۱۲۰)۔