رشوت
کمپنیکیچیزیںاستعمالکرنا
سوال۱:۔
اگر کوئی شخص جس کمپنی میں کام کرتا ہو، وہاں سے کاغذ، پنسل، رجسٹر یا کوئی ایسی چیز جو آفس میں اس کے استعمال کی ہو، گھر لے جائے اور ذاتی استعمال میں لے آئے، کیا یہ جائز ہے؟
سوال۲:۔
یا آفس میں ہی اسے ذاتی استعمال میں لائے۔
سوال۳:۔
گھر میں بچوں کے استعمال میں لائے۔
سوال۴:۔
آفس کے فون کو ذاتی کاروبار، یا نجی گفتگو میں استعمال کرے۔
سوال۵:۔
کمپنی کی خرید و فروخت کی چیزوں میں کمیشن وصول کرنا۔
سوال۶:۔
آفس کے اخبار کو گھر لے جانا وغیرہ۔
جواب:۔
سوال نمبر۵ کے علاوہ باقی تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ اگر کمپنی کی طرف سے اس کی اجازت ہے تو جائز ہے، ورنہ جائز نہیں، بلکہ چوری اور خیانت ہے۔(۱) سوال نمبر۵ کا جواب یہ ہے کہ ایسا کمیشن وصول کرنا رشوت ہے، جس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔(۲)
- (۱) تصرف الْإنسان فی مال غیرہ لَا یجوز إلّا بإذن أو ولَایۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ، کتاب الشرکۃ ج:۱ ص:۲۸۷)۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألَا لَا یحل مال امرئٍ إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵، باب الغصب والعاریۃ)۔
- (۲) الوکیل إذا باع أن یکون أمینا فیما یقبضہ من الثمن۔ (الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۲ ص:۱۳۴، ضمان الوکیل)۔ أیضًا: فإن الوکیل ممن لَا یثبت لہ حکم تصرفہ وھو الملک فإن الوکیل بالشری لَا یملک المشتری والوکیل بالبیع لَا یملک الثمن ۔۔۔ لأن الوکیل یملک التصرف من جھۃ المؤکل۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۳۰۰ کتاب الوکالۃ)۔

