رشوت
رشوتکیرقمنیککاموںپرخرچکرنا
سوال:۔
اگر کوئی شخص رشوت لیتا ہے اور اس رشوت کی کمائی کو کسی نیک کام میں خرچ کرتا ہے، مثلاً: کسی مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرتا ہے، تو کیا اس شخص کو اس کام کا ثواب ملے گا؟ اگرچہ ثواب و عذاب کے بارے میں خدا تعالیٰ سے بہتر کوئی نہیں جانتا، مگر خدا اور رسول کے اَحکام و طریقوں کی روشنی میں اس کا جواب دے کر مطمئن فرمائیں۔
جواب:۔
رشوت کا پیسہ حرام ہے، اور حدیث میں ارشاد ہے کہ: ’’آدمی حرام کماکر اس میں سے صدقہ کرے، وہ قبول نہیں ہوتا‘‘(۱) حضراتِ فقہاء نے لکھا ہے کہ مالِ حرام میں صدقے کی نیت کرنا بڑا ہی سخت گناہ ہے، اس کی مثال ایسی ہے کوئی شخص گندگی جمع کرکے کسی بڑے آدمی کو ہدیہ پیش کرے، تو یہ ہدیہ نہیں کہلائے گا بلکہ اس کو گستاخی تصوّر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہِ عالی میں گندگی جمع کرکے پیش کرنا بھی گستاخی ہے۔(۲)
- (۱) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تقبل الصلٰوۃ بغیر طھور، ولَا صدقۃ من غلول۔ (سنن ترمذی ج:۱ ص:۳)۔ أیضًا: عن عبداللہ بن مسعود عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا یکسب عبد مال حرام فیتصدق منہ فیقبل منہ ولَا ینفق منہ فیبارک لہ فیہ ولَا یترکہ خلف ظھرہ إلّا کان زادہ إلی النار انّ اللہ یمحوا السییٔ بالسییٔ ولٰـکن یمحو السییٔ بالحسن، ان الخبیث لَا یمحوا الخبیث۔ رواہ أحمد وکذا فی شرح السُّنَّۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۲، باب الکسب وطلب الحلال)۔
- (۲) رجل دفع إلی الفقیر من المال الحرام شیئًا یرجو بہ الثواب یکفر ۔۔۔ قالت الدفع إلٰی فقیر قید بل مثلہ فیما یظھر لو بنی مسجدًا ونحوہ مما یرجو بہ التقرب لأن العلۃ رجاء الثواب فیما فیہ العقاب۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۲۹۲)۔

