رشوت
کیارِشوتکامالاُمورِخیرمیںصَرفکرناجائزہے؟
سوال:۔
میں ایک سرکاری ملازم ہوں، میری تنخواہ اتنی نہیں ہے کہ گھریلو اِخراجات اور دیگر ضروریات پوری ہوسکیں۔ مجھے تنخواہ کے علاوہ ٹھیکیدار حضرات سے ان کی اپنی رضامندی پر رقم ملا کرتی ہے۔ میری یہ فطری عادت ہے کہ جب کسی مسکین، حاجت مند، فقیر، مجبور وبے کس کو دیکھتا ہوں تو میرا دِل پسیج جاتا ہے اور میں فراخ دِلی سے ایسے اشخاص کی مالی مدد کرتا ہوں، یعنی خیرات دے دیتا ہوں، یا پھر حاجت مند کی حاجت پوری کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اور ایسا کرنے سے مجھے بہت دِلی مسرّت حاصل ہوتی ہے اور دِلی سکون میسر آتا ہے۔
اسی طرح جہاں کہیں، کسی شہر یا سفر کے دوران شاہراہوں پر زیرِ تعمیر مساجد میں چند دیتا ہوں، اگر نہ دُوں تو میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے کہ خدا کا گھر تعمیر ہو رہا ہے اور میں نے اس میں حصہ نہیں ڈالا۔ یہ چند حسبِ توفیق دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ ایسی مساجد جہاں قالین کی ضرورت ہو، ٹی آئرن گارڈر کی ضرورت ہو، یا سیمنٹ کی ضرورت ہو تو حسبِ توفیق دے دیتا ہوں۔ سال کے اِختتام پر زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہوں۔ مجھے ایک مولوی صاحب سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو بھی خرچ کیا جائے خواہ خیرات ہو یا مسجد شریف کی تعمیر میں حصہ ڈالا جائے یا اس میں قالین بچھایا جائے وغیرہ وغیرہ اگر حلال کی روزی سے ہو تو دُرست ہے، ثواب ملے گا، اور اگر حلال کی کمائی سے نہ ہو تو گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوگا۔ جب سے میں نے یہ سنا ہے میں بہت پریشان ہوں، اگر کسی یتیم، مسکین، بیوہ، فقیر، حاجت مند کی ضرورت پوری نہ کروں تو میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا ہے، اور دُوسری صورت میں یعنی مدد کرنے پر مجھے خوشی اور راحت میسر آتی ہے۔ اب میں گناہِ کبیرہ کا سن کر خوف محسوس کرتا ہوں کہ میرے اس کام سے اللہ تعالیٰ مجھے جہنم واصل فرمائے گا۔ میں واضح کردوں کہ یہ تمام کام میں خلوصِ نیت اور سچے دِل سے کرتا ہوں۔ مجھے ایک حدیث یاد ہے: ’’اہلِ اِیمان، مؤمن کی نشانی یہ ہے کہ جب وہ نیک یا اچھا کام کرتا ہے تو اسے خوشی محسوس ہوتی ہے، اور جب بُرا کام کرتا ہے تو اسے ندامت محسوس ہوتی ہے اور وہ پشیمان ہوتا ہے۔‘‘ میرے ساتھ میرا ضمیر، میرا دِل مندرجہ بالا اُمور کی انجام دہی میں بالکل مطمئن ہوتا ہے اور مجھے رُوحانی تسکین ملتی ہے۔ اب آپ براہِ کرم وضاحت فرمائیں کہ:
۱:۔ کیا حلال کمائی کے علاوہ کسی رقم سے مندرجہ بالا اُمور کی انجام دہی کی صورت میں اِنسان گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو کیا مندرجہ بالا اَشخاص کی مالی مدد بند کردی جائے؟
۲:۔ کیا مساجد میں تعمیر وغیرہ میں ایسی رقم سے حصہ لینے سے اِجتناب کیا جائے؟
۳:۔ کیا اس قسم کی رقم سے نصاب پورا ہونے پر سال کے اِختتام پر زکوٰۃ ادا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
مزید وضاحت یہ ہے کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے اور تنخواہ قلیل ہے، جس سے اِخراجات کسی صورت میں پورے نہیں ہوتے، اس لئے مجبوری کی حالت میں اُوپر کی رقم لینے پر مجبور ہوں۔ گو میرا ضمیر اس کے خلاف ہے۔ مزید بتاتا چلوں کہ اس رقم کے عوض کسی کو ناجائز مراعات فراہم نہیں کی جاتیں۔
جواب:۔
آپ کی نیک نیتی، غریب پروَری اور نیکی کے کاموں میں حصہ لینا قابلِ داد ہے! لیکن یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ آپ سرکاری ملازم ہیں، اور آپ کے لئے سرکاری تنخواہ تو حلال ہے، بشرطیکہ آپ کام دیانت داری سے کریں، لیکن ٹھیکیدار کی طرف سے آپ کو جو کچھ پیش کیا جاتا ہے وہ آپ کے لئے حلال نہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ایک سرکاری کام سے (صدقات کی تحصیل کے لئے) بھیجا، وہ واپس آیا اور وصول شدہ رقم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کی، اور ساتھ ہی یہ کہا کہ یہ رقم تو آپ کی ہے، اور یہ رقم مجھے ہدایا میں ملی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ اِرشاد فرمایا کہ: بعض لوگوں کو ہم سرکاری کام سے بھیجتے ہیں، تو وہ واپس آکر ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ رقم تو آپ کی ہے، یعنی جس سرکاری کام کے لئے بھیجا تھا، اس مد کی ہے، اور یہ رقم مجھے ہدیہ میں ملی ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ’’یہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھا رہا، پھر میں دیکھتا کہ اس کو کتنے ہدیے ملتے ہیں؟‘‘(۱)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سرکاری ملازم کو سرکاری کام کی وجہ سے جو تنخواہ ملتی ہے وہ تو حلال ہے، اور جو لوگ سرکاری ملازم کو ہدیے یا تحفے دیتے ہیں، وہ درحقیقت ہدیے اور تحفے نہیں، بلکہ رِشوت ہے۔(۲) اور آنجناب کو یہ تو معلوم ہوگا کہ: ’’اَلرَّاشِیْ وَالْمُرْتَشِیْ کِلَاھُمَا فِی النَّارِ‘‘(۳) یعنی رِشوت لینے والا اور دینے والا دونوں دوزخ میں ہوں گے۔ اب آپ کے سوالات کا جواب نمبروار لکھتا ہوں:
۱:۔ حلال رقم کے علاوہ رِشوت کا مال ان اُمورِ خیر میں صَرف کرنا حلال نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے، اور بعض علماء کے نزدیک تو حرام چیز کے خرچ کرنے سے ثواب کی نیت رکھنا، اس سے اندیشۂ کفر ہے۔(۴)
۲:۔ ظاہر ہے کہ حرام روپیہ لے کر مساجد میں لگانا آپ کے لئے جائز نہیں۔(۵) البتہ ایک تدبیر ہوسکتی ہے کہ آپ کسی کا کام کرتے ہیں تو اس کو ترغیب دیں کہ فلاں جگہ مسجد میں فلاں چیز کی ضرورت ہے، اگر آپ کے پاس گنجائش ہو تو اس مسجد کی خدمت کریں۔ کام تو آپ نے اس کا بلامعاوضہ کردیا اور کسی قسم کی رشوت نہیں لی، لیکن نیک کام کی ترغیب آپ نے دے دی، اگر وہ اس نیکی کے کام میں خرچ کرے گا تو وہ ثواب کا مستحق ہوگا، اور آپ ترغیب دِلانے کے مستحق ہوں گے۔ یہی صورت غریبوں، مسکینوں کی خدمت کے لئے بھی آپ اِستعمال کرسکتے ہیں۔
۳:۔ یہ صحیح ہے کہ تنخواہیں کم ہیں، اس لئے گزارہ نہیں ہوتا، لیکن ایک بات یاد رکھیں کہ اگر دُنیا میں آپ نے اچھا گزارہ کرلیا، لیکن مرنے کے بعد آپ کو وہ سارا بھرنا پڑا، جبکہ وہاں آپ کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوگا، تو یہ آپ کا معاملہ صحیح ہے یا غلط ہے؟ اس کا فیصلہ خود کرلیجئے! ہاں اگر کسی کو قبر وحشر پر اِیمان ہی نہ ہو، اس کو سمجھانا میرے لئے مشکل ہے!
- (۱) عن أبی حمید الساعدی قال: إستعمل النبی صلی اللہ علیہ وسلم رجلًا من الْازد ۔۔۔ فلما قدم قال: ھٰذا لکم وھٰذا أُھدی لی، فخطب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وحمد اللہ وأثنٰی علیہ ثم قال: أما بعد! فإنی أستعمل رجلًا منکم علٰی أمور مما ولَانی اللہ، فیأتی أحدھم، فیقول: ھٰذا لکم وھٰذہ ھدیۃ أُھدیت لی، فھلا جلس فی بیت أبیہ أو فی بیت اُمّہٖ فینظر أیھدیٰ لہ أم لَا ۔۔۔إلخ۔ (أبو داوٗد ج:۲ ص:۵۳)۔ (قال الشیخ خلیل أحمد السھارنفوری) وظاھر أنہ إذا جلس فی بیت اُمّہ وأبیہ لَا یھدیٰ لہ قطعًا ویقینًا، فھٰذا الذی أھدیٰ لہ ھو للحکومۃ وھو الرشوۃ۔ (بذل المجھود ج:۴ ص:۱۲۰)۔
- (۲) ایضا۔
- (۳) حدیث کے الفاظ یہ ہیں: الراشی والمرتشی فی النار ۔ (کنز العمال ج:۱۲ ص:۱۳، رقم الحدیث:۱۵۰۷۷، المطالب العالیۃ ج:۲ ص:۲۴۹، باب ذم الرشوۃ)۔
- (۴) رجل دفع إلٰی فقیر من المال الحرام شیئًا یرجو بہ الثواب یکفر ۔۔۔ قلت: الدفع إلٰی فقیر غیر قید بل مثلہ فیما یظھر لو بنی مسجدًا ونحوہ مما یرجو بہ التقرب لأن العلۃ رجاء الثواب فیما فیہ العقاب۔ (وفی الشامیۃ) انما یکفر إذا تصدق بالحرام القطعی أی مع رجاء الثواب الناشی عن إستحلالہ۔ (ردالمحتار ج:۲ ص:۲۹۲)۔
- (۵) قال تاج الشریعۃ: أما لو أنفق فی ذٰلک مالًا خبیثًا، ومالًا سببہ الخبیث والطیب، فیکرہ، لأن اللہ لَا یقبل إلّا الطیب، فیکرہ تلویث بیتہ بما لَا یقبلہ۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۶۵۸، مطلب فی أحکام المساجد)۔ وعن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ طیب لَا یقبل إلّا طیّبًا، وإن اللہ أمر المؤمنین بما أمر بہ المرسلین۔ (مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۴۱، کتاب البیوع)۔

