بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

رشوت‌کی‌رقم‌سے‌کسی‌کی‌خدمت‌کرکے‌ثواب‌کی‌اُمید‌رکھنا‌جائز‌نہیں

سوال:۔

میرے ایک افسر ہیں، جو اپنے ماتحت کی خدمت میں حاتم طائی سے کم نہیں، کسی کو اس کی لڑکی کی شادی پر جہیز دِلاتے ہیں، کسی کو پلاٹ اور کسی کو فلیٹ بُک کرادیتے ہیں، وہ یہ سب اپنے حصے کی رشوت سے کرتے ہیں اور خود اِیمان دار ہیں۔ آپ سے مذہب کی رُو سے دریافت کرنا ہے کہ کیا ان کو ان تمام خدمات کے صلے میں ثواب ملے گا اور ان کا اِیمان باقی رہے گا؟

جواب:۔

رشوت لینا حرام ہے،(۱) اور اس حرام روپے سے کسی کی خدمت کرنا اور اس پر ثواب کی توقع رکھنا بہت ہی سنگین گناہ ہے۔ بعض اکابر نے لکھا ہے کہ حرام مال پر ثواب کی نیت کرنے سے اِیمان سلب ہوجاتا ہے۔(۲) آپ کے حاتم طائی کو چاہئے کہ رشوت کا روپیہ اس کے مالک کو واپس کرکے اپنی جان پر صدقہ کریں۔(۳)

  1. (۱) الراشی والمرتشی فی النار۔ (کنز العمال ج:۱۲ ص:۱۱۳ رقم الحدیث:۱۵۰۷۷، المطالب العالیۃ، لِابن حجر عسقلانی ج:۲ ص:۲۴۹، باب ذم الرشوۃ)۔
  2. (۲) رجل دفع إلٰی فقیر من المال الحرام شیئًا یرجو بہ الثواب یکفر ۔۔۔ قلت الدفع إلٰی فقیر غیر قید بل مثلہ فیما یظھر لو بنٰی مسجدًا أو نحوہ مما یرجو بہ التقرّب لأن العلۃ رجاء الثواب فیما فیہ العقاب۔ قال ابن عابدین تحت قولہ: (إنما یکفر إذا تصدق بالحرام القطعی) أی مع رجاء الثواب الناشی عن إستحلالہٖ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۹۲)۔
  3. (۳) دفع للقاضی أو لغیرہ سحتًا ۔۔۔ فظاھرہ ان التوبۃ من الرشوۃ برد المال إلٰی صاحبہ وإن قضٰی حاجتہ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۶)۔ الحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم، وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیتہ صاحبہ۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹، مطلب فیمن ورث مال حرامًا)۔