بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

شوہر‌کا‌لایا‌ہوا‌رِشوت‌کا‌پیسہ‌بیوی‌کو‌اِستعمال‌کرنے‌کا‌گناہ

سوال:۔

اگر شوہر رشوت لیتا ہو اور عورت اس بات کو پسند بھی نہیں کرتی ہو، اور اس کے ڈَر سے منع بھی نہیں کرسکتی تو کیا اس کمائی کے کھانے کا عورت کو بھی عذاب ہوگا؟

جواب:۔

شوہر اگر حرام کا روپیہ کماکر لاتا ہے تو عورت کو چاہئے کہ پیار محبت سے اور معاملہ فہمی کے ساتھ شوہر کو اس زہر کے کھانے سے بچائے، اگر وہ نہیں بچتا تو اس کو صاف صاف کہہ دے کہ: ’’میں بھوکی رہ کر دن کاٹ لوں گی، مگر حرام کا روپیہ میرے گھر نہ لایا جائے، حلال خواہ کم ہو میرے لئے وہی کافی ہے۔‘‘ اگر عورت نے اس دستور العمل پر عمل کیا تو وہ گناہگار نہیں ہوگی، بلکہ رشوت اور حرام خوری کی سزا میں صرف مرد پکڑا جائے گا،(۱) اور اگر عورت ایسا نہیں کرتی بلکہ اس کا حرام کا لایا ہوا روپیہ خرچ کرتی ہے تو دونوں اکٹھے جہنم میں جائیں گے۔

  1. (۱) وفی الخانیۃ: امرأۃ زوجھا فی أرض الجور، إن أکلت من طعامہ ولم یکن عین ذٰلک الطعام غصبًا فھی فی سعۃ من أکلہ، وکذا لو اشتریٰ طعامًا أو کسوۃ من مال أصلہ لیس بطیب فھی فی سعۃ من تناولہ والْإثم علی الزوج۔ (فتاویٰ شامی ج:۵ ص:۹۹ مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔