بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

رشوت‌کی‌رقم‌سے‌اولاد‌کی‌پروَرِش‌نہ‌کریں

سوال:۔

رشوت آج کل ایک بیماری کی صورت اختیار کرگئی ہے، اور اس مرض میں آج کل ہر ایک شخص مبتلا ہے۔ میرے والد صاحب بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ میں انٹر کا طالب علم ہوں اور مجھے اس بات کا اب خیال آیا کہ میرے والد صاحب میری پڑھائی لکھائی پر، میرے کھانے وغیرہ پر جو کچھ خرچ کر رہے ہیں، وہ سب رشوت سے ہے۔ آپ مجھے قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کیا میں والد صاحب کی حرام کمائی سے پڑھتا لکھتا رہوں، کھاتا پیتا رہوں؟ یا میں اپنا گھر چھوڑ کر کہیں چلا جاؤں اور محنت کرکے اپنی گزر اوقات کروں یا کوئی اور راستہ اختیار کروں؟

جواب:۔

اگر آپ کے والد کی کمائی کا غالب حصہ حرام ہے تو اس میں سے لینا جائز نہیں، آپ اپنے والد صاحب کو کہہ دیجئے کہ وہ آپ کو جائز تنخواہ کے پیسے دیا کریں، رشوت کے نہ دیا کریں۔(۱)

  1. (۱) آکل الربا وکاسب الحرام أھدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لَا یقبل ولَا یأکل ما لم یخبرہ ان ذٰلک المال أصلہ حلال۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۳، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات)۔