رشوت
انتہائیمجبوریمیںرشوتلینا
سوال:۔
کچھ دن قبل میری ملاقات اپنے ایک کلاس فیلو سے ہوئی جو کہ موجودہ وقت میں آزاد کشمیر کے ایک جنگل میں فارسٹر کی حیثیت سے ملازم ہے، میں نے اس سے رشوت کے سلسلے میں جب بات کی تو اس نے جو کہانی سنائی کچھ یوں تھی:
میری بیسک تنخواہ ۳۲۵ روپے ہے، کل الاؤنس وغیرہ ملاکر مبلغ چار سو روپے ماہوار تنخواہ بنتی ہے، میں جس جنگل میں تعینات ہوں وہ میرے گھر سے پندرہ میل کے فاصلے پر ہے، میرا آنے جانے کا کرایہ، میری بیوی، بچے جن کی کل تعداد سات ہے، ان کے کھانے پینے کا انتظام، کپڑا جوتے، علاج معالجہ، مہمان، غرض یہ کہ دُنیا میں جو کچھ بھی نظام ہے وہ جائز طریقے سے مجھے چلانا پڑتا ہے، اور پھر میرے جنگل میں دورے پر آنے والے جنگلات کے افسران جس میں ایف ڈی اور رینجر صاحب اور دیگر افسران یہاں تک کہ صدر آزاد کشمیر بھی سال میں ایک مرتبہ دورہ کرتے ہیں، اب ان سب لوگوں کے دورے کے دوران جتنا بھی خرچہ ہوتا ہے وہ اس علاقے کے فارسٹر اور پٹواری کے ذمے ہوتا ہے جو کہ کبھی دو تین ہزار سے کم نہیں ہوتا، اب آپ مجھے یہ بتائیں کہ میں اور پٹواری یہ تین ہزار کہاں سے دیں گے، اگر رشوت نہیں لیں گے؟ یہ سوال اس نے مجھ سے کیا تھا۔ جواب آپ دیں کہ آیا ان حالات میں رشوت لینا کیسا ہے؟
جواب:۔
رشوت لینا تو گناہ ہے۔(۱) باقی یہ شخص کیا کرے؟ اس کا جواب تو افسرانِ بالا ہی دے سکتے ہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ ملازمین کو اتنی تنخواہ ضرور دی جائے جس سے وہ اپنے بال بچوں کی پروَرِش کرسکیں، اور ان پر اضافی بوجھ بھی، جو سوال میں ذکر کیا گیا ہے، نہیں ڈالنا چاہئے۔
- (۱) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی والمرتشی۔ (أبو داوٗد ج:۲ ص:۱۴۸، باب فی کراھیۃ الرشوۃ)۔

