بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

دفعِ‌ظلم‌کے‌لئے‌رشوت‌کا‌جواز

سوال:۔

آپ نے ایک جواب میں لکھا ہے کہ دفعِ مضرّت کے لئے رشوت دینا جائز ہے، حالانکہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں ملعون ہیں، پھر آپ نے کیوں جواز کا قول فرمایا ہے؟

جواب:۔

رشوت کے بارے میں جناب نے مجھ پر جو اعتراض کیا تھا، میں نے اعترافِ شکست کے ساتھ اس بحث کو ختم کردینا چاہا تھا، لیکن آنجناب نے اس کو بھی محسوس فرمایا، اس لئے مختصراً پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر اس سے شفا نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ میں اس سے زیادہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔

جناب کا یہ اِرشاد بجا ہے کہ رشوت قطعی حرام ہے، خدا اور رسول نے راشی اور مرتشی دونوں پر لعنت کی ہے،(۱) اور اس پر دوزخ کی وعید سنائی ہے۔(۲) لیکن جناب کو معلوم ہے کہ اِضطرار کی حالت میں مردار کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے۔(۳) کچھ یہی نوعیت رشوت دینے کی ہے۔ ایک شخص کسی ظالم خونخوار کے حوالے ہے، وہ ظلم دفع کرنے کے لئے رشوت دیتا ہے، فقہائے اُمت اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ’’اُمید ہے کہ اس پر مؤاخذہ نہ ہوگا‘‘ اور یہی میں نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس پر عام حالات کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا، اس لئے رشوت لینا تو ہر حال میں حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے۔(۴) اور رِشوت دینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جلبِ منفعت کے لئے رشوت دے، یہ حرام ہے، اور یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں رشوت دینے پر وعید آئی ہے۔(۵)

اور دُوسری صورت یہ کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ: ’’اُمید ہے کہ مؤاخذہ نہ ہوگا‘‘،(۶) اس صورت پر جناب کا یہ فرمانا کہ: ’’میں اللہ اور رسول کے مقابلے میں فقہاء کی تقلید پر زور دے رہا ہوں‘‘ بہت ہی افسوس ناک الزام ہے۔ اسی لئے میں نے لکھا کہ: ’’آپ ماشاء اللہ خود ’’مجتہد‘‘ ہیں، مجتہد کے مقابلے میں مقلد بے چارہ کیا کرسکتا ہے؟‘‘ آپ کا یہ فرمانا کہ: ’’عوام علمائے کرام پر اعتماد کرتے ہیں، مگر ان میں خلوص چاہئے‘‘ بجا ہے، لیکن جناب نے تو بے اعتمادی کی بات کی تھی، جس پر مجھے اعترافِ شکست کرنا پڑا۔

  1. (۱) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الراشی والمرتشی۔ (أبوداوٗد ج:۲ ص:۱۴۸، باب فی کراھیۃ الرشوۃ)۔
  2. (۲) الراشی والمرتشی فی النار۔ (کنز العمال ج:۱ ص:۱۱۳ رقم الحدیث:۱۵۰۷۷، أیضًا: المطالب العالیۃ، لِابن حجر عسقلانی ج:۲ ص:۲۴۹، باب ذم الرشوۃ)۔
  3. (۳) قَالَ تَعَالَىﵟ قُل لَّآ أَجِدُ فِي مَآ أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٖ يَطۡعَمُهُۥٓ إِلَّآ أَن يَكُونَ مَيۡتَةً أَوۡ دَمٗا مَّسۡفُوحًا أَوۡ لَحۡمَ خِنزِيرٖ فَإِنَّهُۥ رِجۡسٌ أَوۡ فِسۡقًا أُهِلَّ لِغَيۡرِ ٱللَّهِ بِهِۦۚ فَمَنِ ٱضۡطُرَّ غَيۡرَ بَاغٖ وَلَا عَادٖ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ﵞ الأنعام ١٤٥۔
  4. (۴) گذشتہ حاشیہ: الراشی والمرتشی فی النار۔ اور حاشیہ: الرشوۃ أربعۃ أقسام... ملاحظہ کریں۔
  5. (۵) وفی الخانیۃ: الرشوۃ علٰی وجوہ أربعۃ: منھا ما ھو حرام من الجانبین ۔۔۔ الثانی إذا دفع الرشوۃ إلی القاضی لیقضی لہ حرم من الجانبین سوائً کان القضاء بحق أو بغیر حق۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵)۔ أیضًا: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الراشی أی معطی الرشوۃ والمرتشی أی آخذھا ۔۔۔ وإنما یلحقھم العقوبۃ معًا إذا استویا فی القصد والْإرادۃ، ورشا المعطی لینال بہ إلی الظلم فأما إذا اعطی لیتوصل بہ إلٰی حق أو یدفع عن نفسہ ظلمًا فإنہ غیر داخل فی ھٰذا الوعید۔ (بذل المجھود، کتاب القضاء ج:۴ ص:۳۰۷)۔
  6. (۶) ومنھا: إذا دفع الرشوۃ خوفًا علٰی نفسہ أو مالہ فھو حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع، وکذا إذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵، کتاب القضاء)۔