بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

کیا‌رِشوت‌دینے‌کی‌خاطر‌رِشوت‌لینے‌کے‌بھی‌عذرات‌ہیں؟

سوال:۔

ایک سوال کرنے والے نے آپ سے پوچھا کہ: ’’ایسے موقع پر جبکہ اپنا کام کرانے کے لئے (ناحق) پیسے ادا کئے بغیر کام نہ ہو رہا ہو تو پیسے دے کر اپنا کام کرانا جبکہ کسی دُوسرے کا حق بھی نہ مارا گیا ہو، رشوت ہے کہ نہیں؟‘‘ آپ نے جواب میں فرمایا ہے کہ: ’’دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو توقع ہے کہ گرفت نہیں ہوگی، گو کہ رشوت لینا ہر حال میں حرام ہے، یعنی رشوت لینا ہر حال میں حرام ہے، لیکن ایسی مجبوری ہو تو دینے والا رِشوت دے دے اور اُمید رکھے کہ یہ گناہ معاف ہوجائے گا۔‘‘

رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہیں، اور دونوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت کی خبر دی گئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے، اسے حلال، اور جس کو حلال کیا ہے، اسے حرام نہ کیا کرو۔ آپ عالمِ دِین ہیں، آپ مجھ سے زیادہ ان باتوں کا علم اور شعور رکھتے ہیں، اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ بحالتِ مجبوری رشوت دینے سے اس گناہ کی گرفت سے بچنے کی اُمید کی جاسکتی ہے، تو پھر کئی دیگر جرائم کے ارتکاب کا جواز پیدا ہوسکتا ہے، مثلاً: کوئی شخص بیروزگاری کی حالت میں چوری کرے تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے تو اس کے متعلق بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ چوری کے گناہ اور سزا سے بچ جائے گا۔ اسی طرح جھوٹ بولنے کے بغیر زیادہ نقصان کا خطرہ ہو تو ضرورتاً جھوٹ بولنے کی معافی بھی ہوسکتی ہے۔ شدید جذبات سے مغلوب ہوکر زنا کے مرتکب ہونے والے سے بھی رعایت ہوسکتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ میرے محترم! غور فرمائیے، رشوت جیسے قطعی حرام فعل میں رعایت دینے سے بات کہاں تک پہنچ جاتی ہے؟

علاوہ ازیں آپ کے فتوے سے قارئین پر کیا اثر ہوگا؟ اس پر بھی نگاہ فرمائیے، یہ تو عیاں ہے کہ لوگ مجبور ہوکر رشوت دیتے ہیں، ورنہ حکام یا دفتروں کے پھیرے لگاتے رہو، کام نہیں ہوتا۔ رضا و رغبت سے کوئی رشوت نہیں دیتا۔ دُوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک کے معاشی اور معاشرتی حالات ایسے ہیں کہ رشوت لینے والے بھی کسی حد تک مجبوری ہی سے لیتے ہیں۔ آپ کے فتوے کا عوام پر یہ اثر ہوگا کہ وہ چند ایک نیک دِل حضرات جو رشوت دینا قطعی حرام سمجھ کر اس کی مدافعت کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہ بھی یہ جان کر کہ مجبوری اور تکلیف (جسے آپ نے ’’ظلم‘‘ کہا ہے) سے بچنے کی صورت میں رشوت دے دینے اور اس گناہ کی سزا سے بچ جانے کی توقع ہے، اب اپنی مٹھی آسانی سے ڈھیلی کردیں گے۔

مولانا صاحب! اس رشوت کے عذاب کا جو قوم پر مسلط ہے، آپ نے اندازہ لگایا ہے؟ رشوت کے ہاتھوں سارا نظامِ حکومت درہم برہم ہوگیا ہے، قرآن و کتاب کی حکمرانی ایک بے معنی سی بات بن کر رہ گئی ہے، عدل و انصاف کا اس سے گلا گھونٹا جارہا ہے، رزقِ حلال کا حصول جو مسلمان کے ایمان کو قائم رکھنے کا تنہا ذریعہ ہے، ایک خواب و خیال بن چکا ہے۔ مختصر یہ کہ ایمان والوں کے معاشرے میں یہودیت (سرمایہ پرستی) فروغ پارہی ہے۔ کیا رشوت ان جرائم کے اثرات سے کم ہے جن کی حد قرآنِ کریم نے مقرّر فرمائی ہے؟ آج رشوت کے بُرے اثرات کا نفوذ ان جرائم سے بھی کہیں زیادہ ہے، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ رشوت کو بھی روکنے کے اقدامات اسی سنجیدگی سے کئے جائیں۔ یہی نہیں بلکہ عوام کے دِل و دِماغ میں بٹھایا جائے کہ حرام کی کمائی اور مسلمان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ ساتھ ہی حکومت کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ قرآنِ کریم کے معاش کے متعلق اَحکام کے نفاذ کو اوّلیت دی جائے اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سادہ اور درویشانہ زندگی کو اپنے لئے نمونہ بنایا جائے۔ اُمید ہے آپ مجھے اس تلخ نوائی کے لئے معاف فرمائیں گے اور ایک دردمند دِل کی آواز سمجھ کر اسے درخور اعتنا سمجھیں گے۔

جواب:۔

آپ کا خط ہمارے معاشرے کے لئے بھی اور حکومت اور کارکنان کے لئے بھی لائقِ عبرت ہے۔ اور میں نے جو مسئلہ لکھا ہے کہ: ’’مظلوم اگر دفعِ ظلم کے لئے رشوت دے کر خونخوار درندوں سے اپنی گردن خلاصی کرائے تو توقع ہے کہ اس پر گرفت نہ ہوگی‘‘ یہ مسئلہ اپنی جگہ دُرست ہے۔(۱) آخر مظلوم کو کسی طرح تو دادرسی کا حق ملنا چاہئے، عام حالات میں جو رِشوت کا لین دین ہوتا ہے، یہ مسئلہ اس سے متعلق نہیں۔

  1. (۱) ولَا بأس بالرشوۃ إذا خاف علٰی دینہ قال الشامی عبارۃ المجتبی لمن یخاف وفیہ أیضًا دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ ولِاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۴۲۴ الحظر والْإباحۃ)۔ ومنھا: إذا دفع الرشوۃ خوفًا علٰی نفسہ أو مالہ فھو حرام علی الآخذ غیر حرام علی الدافع، وکذا إذا طمع فی مالہ فرشاہ ببعض المال۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵ طبع بیروت)۔