بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رشوت

امتحان‌میں‌کامیابی‌کے‌لئے‌رِشوت‌دینا

سوال:۔

اکثر طالب علم اِمتحان کے لئے محنت نہیں کرتے اور رزلٹ میں اچھی پوزیشن اور نمبر بڑھانے کے لئے بے دریغ پیسہ دیتے ہیں، اس طرح حق داروں کا حق مارا جاتا ہے، اور نااہل لوگ پیسے کے بل پر کاغذوں میں اپنی قابلیت بڑھالیتے ہیں۔ بعض والدین خود اپنے بچوں کی اچھی پوزیشن دِلانے کے لئے دولت خرچ کرتے ہیں ایسا عام طور پر میٹرک کے رزلٹ کے موقع پر ہوتا ہے کیونکہ میٹرک پاس کرنا ہی طالب علم کے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اس طرح حاصل کی ہوئی پوزیشن سے جو روزگار کمایا جائے گا، آیا وہ دُرست ہوگا؟ کیا یہ گناہ میں شمار ہوگا؟ بعض والدین خود یہ طریقہ اِختیار کرتے ہیں اور بچہ لاعلمی کی وجہ سے اس کو بُرا نہیں سمجھتا۔ یہ بھی وضاحت فرمادیں کہ اگر ایسا کرنے کے بعد ضمیر ملامت کرے تو اس کا اِزالہ کیسے کیا جائے گا؟

جواب:۔

یہ رشوت ہے،(۱) اور رِشوت کا حرام ہونا سب کو معلوم ہے، اگر غلطی کربیٹھا ہو تو توبہ کے بغیر کیا تدارک ہوسکتا ہے؟

  1. (۱) الرشوۃ مال یعطیہ بشرط أن یعینہ کذا فی فتاویٰ قاضیخان۔ (مجموعۃ قواعد الفقہ ص:۳۰۷، البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵، کتاب القضاء)۔