رشوت
نوکریکےلئےرشوتدینےاورلینےوالےکاشرعیحکم
سوال:۔
رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں، لیکن بعض معاشرتی بُرائیوں کے پیشِ نظر رشوت لینے والا خود مختار ہوتا ہے اور زبردستی رشوت طلب کرتا ہے، اور رشوت دینے والا، دینے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کا کام روک دیا جاتا ہے، کیونکہ بعض کام ہیں جس کے بغیر اس معاشرے میں نہیں رہ سکتا۔ اور بعض لوگ نوکریاں دِلانے کے لئے بھی رشوت لیتے ہیں، اور کیا نوکری حاصل کرنے والا شخص جو رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے تو کیا اس کا کمایا ہوا رزق حلال ہوگا؟ کیونکہ ایسا شخص بھی خوشی سے رشوت نہیں دیتا، تو ان حالات میں لینے والا اور رشوت دینے والا ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:۔
رشوت لینے والا تو ہر حال میں ’’فِی النَّارِ‘‘ کا مصداق ہے،(۱) اور رِشوت دینے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤاخذہ نہیں فرمائیں گے۔(۲) رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ شخص اس ملازمت کا اہل ہے اور جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، (گو رِشوت کا وبال ہوگا)، اور اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں تو تنخواہ بھی حلال نہیں۔(۳)
- (۱) الراشی والمرتشی فی النار۔ (کنز العمال ج:۶ ص:۱۱۳ حدیث نمبر:۱۵۰۷۷، أیضًا: المطالب العالیۃ ج:۲ ص:۲۴۹، باب ذم الرشوۃ لِابن حجر عسقلانی)۔ الرشوۃ علٰی وجوہ أربعۃ ۔۔۔ ولم أر قسما یحل الأخذ فیہ دون الدفع۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۲۸۵ کتاب القضاء، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔
- (۲) الرشوۃ أربعۃ أقسام ۔۔۔ الرابع: ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیہ علٰی نفسہ أو مالہ حلال للدافع حرام علی الآخذ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولَا یجوز أخذ المال لیفعل الواجب۔ (فتاویٰ شامی، کتاب القضاء ج:۵ ص:۳۶۲)۔ أیضًا: ولَا بأس بالرشوۃ إذا خاف علٰی دینہ (وفی الشامیۃ) ۔۔۔ دفع المال للسلطان الجائز لدفع الظلم عن نفسہ ومالہ، ولِاستخراج حق لہ لیس برشوۃ یعنی فی حق الدافع۔ (فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۴۲۴ الحظر والْإباحۃ)۔
- (۳) کتاب الْإجارۃ: وأما رکنھا فھو الْإیجاب والقبول والقبول والْإرتباط بینھما وأما شرط جوازھا فثلاثۃ أشیاء، أجر معلوم وعین معلوم وبدل معلوم ومحاسنھا دفع الحاجۃ بقلیل المنفعۃ، وأما حکمھا فوقوع الملک فی البدلین ساعۃ فساعۃ۔ (البحر الرائق ج:۸ ص:۳، کتاب الْإجارۃ، طبع دار المعرفۃ بیروت)۔ أیضًا: لَا یجوز عقدھا حتّٰی یعلم البدل والمنفعۃ وبیان المنفعۃ بأحد ثلاث بیان الوقت وھو الأجل وبیان العمل والمکان فالأجر ببیان النقد۔ (البزازیۃ علٰی ھامش الھندیۃ ج:۵ ص:۱۱، کتاب الْإجارات)۔

