بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امانت

امانت‌رکھا‌ہوا‌مال‌بیچ‌کر‌منافع‌لینا‌شرعاً‌صحیح‌نہیں

سوال:۔

ایک صاحب کے پاس میرا مال امانتاً پڑا ہوا تھا، جو انہوں نے میری اِجازت کے بغیر اِستعمال کرلیا، اب وہ مجھے اس کے پیسے یا قیمت اپنی مرضی سے ادا کرنا چاہتے ہیں، مال گتے کی صورت میں تھا، اور مارکیٹ میں ناپید تھا۔ اس مال کے ان صاحب کے اِستعمال کرلینے کی وجہ سے میرا تقریباً چالیس لاکھ روپے کا آرڈر منسوخ ہوگیا، وہ مال چھاپ کر سپلائی کردیا، جس کی وجہ سے مجھے شدید قسم کا مالی نقصان ہوا، اور آرڈر منسوخ ہوجانے کی وجہ سے وہ مال اب میرے کسی کام کا نہیں، پارٹی کا کہنا یہ ہے کہ اب آپ مال کے بدلے مال واپس لے لیجئے یا پھر ان کی بتائی ہوئی قیمت۔

جواب:۔

اس شخص نے آپ کی امانت میں خیانت کی ہے، اس لئے اس کا وہ منافع اس کے لئے شرعاً صحیح نہیں اور اَب آپ اس کی قیمت وصول کرسکتے ہیں، چونکہ وہ مال اب آپ کے کسی کام کا نہیں، اس لئے مال کے بدلے مال دینا تو غلط ہے، اور جو قیمت وہ دینا چاہیں وہ بھی غلط ہے، بلکہ آپ مناسب قیمت وصول کرسکتے ہیں۔(۱)

  1. (۱) وفی المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی (ج:۶ ص:۳۲۹، طبع غفاریۃ کوئٹہ) فی رد الودیعۃ فی الأصل إذا کانت دراھم أو دنانیر أو شیئًا من الوکیل والموزون، فأنفق المودع طائفۃ منھا فی حاجۃ نفسہ کان ضامنًا لما أنفق منھا۔ وفی شرح المجلۃ لرستم باز (ص:۴۴۶، رقم المادّۃ:۸۰۳) الودیعۃ متی وجب ضمانھا، فإن کانت من المثلیات تضمن بمثلھا، وإن کانت من القیمیات تضمن بقیمتھا یوم لزوم الضمان۔