امانت
امانتکیرقماگرکوئیچھینکرلےجائےتوکیاضمانلازمآئےگا؟
سوال:۔
مجھے ایک مسئلے درپیش ہوا، جس کی وجہ سے میں سخت اُلجھن اور کافی تذبذب میں ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں پچھلے سال ابوظبی سے پاکستان اپنے وطن آرہا تھا، یہاں (ابوظبی) روانگی سے پہلے جیسا کہ عام دستور ورِواج کے مطابق دوست احباب اپنے اہلِ خانہ کے لئے تحفے یا گھریلو اِخراجات کے لئے رُقوم وغیرہ دیتے ہیں، مجھے بھی لوگوں نے رقم، یعنی نقدی دِرہم دئیے، جو تقریباً تیس ہزار تھے۔ اس کے علاوہ میرے ذاتی بیس ہزار دِرہم تھے جو ملاکر پچاس ہزار دِرہم ہوئے۔ جب میں ابوظبی سے اسلام آباد ایئرپورٹ آیا تو وہاں میرے عزیز اپنی گاڑی کے ساتھ موجود تھے، میرا تعلق آزاد کشمیر سے ہے، میں اپنے گھر کے لئے روانہ ہوا، تقریباً دو کلومیٹر دُور گیا ہی تھا کہ ایک دُوسری گاڑی میں سوار دو اَفراد نے گاڑی کو روکنے کا اِشارہ کیا، گاڑی روکنے کے بعد دُوسری گاڑی کے شخص نے اپنا سی آئی اے کے اِدارے سے تعلق ظاہر کرکے میری تلاشی لینی شروع کردی، تلاشی کے دوران ہی میری ساری رقم جو کہ پچاس ہزار دِرہم تھے، لے کر فرار ہوگئے۔ میں نے فوراً قریبی تھانے میں رپورٹ درج کرائی، جب تک (دو ماہ) پاکستان میں رہا، اس کے حصول کے لئے میں کوشش میں لگا رہا، مگر کچھ حاصل نہ ہوسکا۔ میں واپس ابوظبی آیا تو یہاں پر جن ساتھیوں نے مجھے اپنے اہلِ خانہ کے لئے جو رُقوم دی تھیں وہ واپسی کا مجھ سے مطالبہ کر رہے ہیں، میں نے یہاں پر ایک عالم سے اس مسئلے کے بارے میں فتویٰ معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ ضائع شدہ رُقوم کی واپسی آپ کے ذمے نہیں۔ اب آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں میرے اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب:۔
چونکہ آپ ان سب حضرات کی رقم امانتاً لائے تھے، اور اگر اَمانت کی رقم بغیر کسی اِختیاری عمل کے ضائع ہوجائے تو ان رُقوم کی واپسی کے ذمہ دار نہیں۔ ان لوگوں کا مطالبہ شرعاً ناجائز ہے۔(۱)
- (۱) وھی (أی الودیعۃ) أمانۃ ھٰذا حکمھا مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب ۔۔۔ فلا تضمن بالھلاک ۔۔۔ مطلقًا سواءً أمکن التحرز أم لَا ھلک معھا شیء أم لَا لحدیث الدارقطنی، لیس علی المستودع غیر المغل ضمان، واشتراط الضمان علی الأمین باطل بہ یفتٰی ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۵ ص:۶۶۴ کتاب الْإیداع)۔

