امانت
اگراَمانترکھوائیگئیقیمتیچیزچورییاگمہوجائےتوکسکےذمےہوگی؟
سوال:۔
ایک دُکان دار یا کسی شخص کے پاس کسی کی قیمتی چیز یا رقم امانت کے طور پر رکھی ہوئی ہے، خدانخواستہ اگر وہ اس کے پاس چوری یا گم ہوجائے تو وہ قیمتی چیز جس کے پاس بطورِ اَمانت رکھی ہوئی ہے، اس کے ذمے ہوگی یا جس نے امانت رکھوائی ہے وہ ذمہ دار ہوگا؟
جواب:۔
جس شخص کے پاس وہ چیز اَمانت رکھی ہوئی تھی، اگر اس نے اس امانت میں خیانت نہیں کی، اس کی پوری حفاظت کی، اس کے باوجود چوری ہوگئی تو جس شخص کی چوری ہوئی اسی کا نقصان ہوا، جس کے پاس امانت رکھی ہوئی تھی وہ بری الذمہ ہے۔(۱)
- (۱) وھی (أی الودیعۃ) أمانۃ ھٰذا حکمھا مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب ۔۔۔ فلا تضمن بالھلاک ۔۔۔ مطلقًا ۔۔۔ واشتراط الضمان علی الأمین باطل بہ یفتٰی۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۶۴ کتاب الْإیداع، طبع سعید)۔ أیضًا: والودیعۃ أمانۃ فی ید الودیع فإذا ھلکت بلا تعد منہ وبدون صنعہ وتقصیرہ فی الحفظ لَا یضمن۔ (شرح المجلۃ، لسلیم رسم باز ص:۴۳۱، رقم المادۃ:۷۷۷)۔

