امانت
کسیکیاِجازتکےبغیراُسکافوناِستعمالکرناخیانتہےاوراُتنابلاداکرناشرعاًواخلاقاًلازمہے
سوال:۔
ایک آدمی سفر پر جاتا ہے اور اپنی بیوی کسی قریبی رشتہ دار کے گھر میں چھوڑ جاتا ہے، کیونکہ اس کی بیوی تنہا اور بیمار بھی ہے، وہ رشتہ دار اپنے کام کے لئے اس شخص کے گھر کا فون اِستعمال کرتا ہے، اس صورت میں ٹیلیفون کا بل زیادہ آئے تو بِل کی ادائیگی کس کے ذمے ہے؟
جواب:۔
بیوی کے عزیز کو اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر ٹیلیفون کا اِستعمال کرنا جائز نہیں تھا، اور اس بِل کا ادا کرنا شرعاً واخلاقاً اسی عزیز کے ذمے ہے جس نے امانت میں خیانت کا اِرتکاب کیا۔(۱)
- (۱) لَا یجوز لأحد أن یتصرف فی ملک غیرہ بلا إذنہ، أو وکالۃ منہ أو ولَایۃ علیہ وإن فعل کان ضامنًا۔ (شرح المجلۃ لسیلم رستم باز ص:۶۱، المادّۃ:۹۶، طبع مکتبہ حبیبیۃ کوئٹہ)۔ تصرف الْإنسان فی مال غیرہ لَا یجوز إلّا بإذنہ أو ولَایۃ۔ (الجوھرۃ النیرۃ ج:۱ ص:۲۸۷، کتاب الشرکۃ)۔ ألَا لَا یحل مال امریئٍ إلّا بطیب نفس منہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۵۵)۔

