امانت
کسیسےچیزعاریتاًلےکرواپسنہکرناگناہِکبیرہہے
سوال:۔
ہمارے قریب ایک آدمی ہے، وہ جس کسی کی اچھی چیز دیکھتا ہے تو اس سے دیکھنے کے لئے لیتا ہے، پھر واپس نہیں کرتا۔ کیا یہ اس کے لئے جائز ہے؟
جواب:۔
جو چیز کسی سے مانگ کر لی جائے وہ لینے والے کے پاس امانت ہوتی ہے،(۱) اس کو واپس نہ کرنا امانت میں خیانت ہے، اور خیانت گناہِ کبیرہ ہے۔(۲)
- (۱) کتاب العاریۃ ۔۔۔ ھی ۔۔۔ شرعًا تملیک المنافع مجانا ۔۔۔ وحکمھا کونھا أمانۃ۔ (الدر المختار، کتاب العاریۃ ج:۵ ص:۶۷۶)۔ وفی الحدیث لَا إیمان لمن لَا أمانۃ لہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۵، کتاب الْإیمان، الفصل الثانی)۔
- (۲) عن أبی ھریرۃ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: آیۃ المنافق ثلاث إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان۔ (سنن نسائی ج:۲ ص:۲۳۲، طبع قدیمی)۔

