بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امانت

امانت‌کی‌رقم‌اگر‌چوری‌ہوجائے‌تو‌شرعی‌حکم

سوال:۔

ایک شخص جب بیرونِ ملک سے اپنے وطن جانے لگا تو اپنے دوست کے پاس کچھ رقم رکھ دی کہ جب پھر آئے گا تو رقم لے لے گا۔ دوبارہ وہ بیرونِ ملک نہ جاسکا اور دوست کی کئی بار یاد دہانی کے باوجود اس شخص نے رقم نہیں منگائی۔ دریں اثنا اس کے دوست کا بریف کیس جس میں اس شخص کی رقم رکھی تھی، چوری ہوگیا۔ آپ بتائیں کیا ان حالات میں اس کے دوست پر پوری رقم واجب الادا ہے؟

جواب:۔

امانت کی رقم اگر اس نے بعینہٖ محفوظ رکھی تھی اور اس کی حفاظت میں غفلت نہیں کی تھی تو اس کے ذمہ اس رقم کا ادا کرنا لازم نہیں۔(۱) لیکن اگر اس نے امانت کی رقم بعینہٖ محفوظ نہیں رکھی بلکہ اسے خرچ کرلیا، یا اپنی رقم میں اس طرح ملالیا کہ دونوں کے درمیان امتیاز نہ رہا، یا اس کی حفاظت میں غفلت کی تو ادا کرنا لازم ہے۔(۲)

  1. (۱) (وھی أمانۃ) ھٰذا حکمھا مع وجوب الحفظ والأداء عند الطلب واستحباب قبولھا فلا تضمن بالھلاک (مطلقًا) سواء أمکن التحرز أم لَا، ھلک معھا شیء أم لَا لحدیث الدارقطنی لیس علی المستودع غیر الفعل ضمان۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۶۶۴)۔ أیضًا: والأمانۃ غیر مضمونۃ فإذا ھلکت أو ضاعت بلا صنع الأمین، ولَا تقصیر منہ، لَا یلزمہ الضمان۔ (شرح المجلۃ ص:۴۲۶، رقم المادۃ:۷۶۸، الباب الأوّل فی أحکام عمومیۃ تتعلق بالأمانات)۔
  2. (۲) وکذا لو خلطھا المودع بجنسھا أو بغیرہ بمالہ أو مال آخر بغیر إذن المالک بحیث لَا تتمیز إلّا بکلفۃ ۔۔۔ ضمنھا لِاستھلاکہ بالخلط ۔۔۔ ولو أنفق بعضھا فرد مثلہ فخلطہ بالباقی خلطًا لَا یتمیز معہ ضمن الکل۔ (درمختار ج:۵ ص:۶۶۸،۶۶۹، کتاب الْإیداع)۔