قرضکےمسائل
رہنکامنافعاستعمالکرنا
سوال:۔
ہمارے علاقے میں رہن کی رسم بہت عام ہے، جس کو بعض علماء نے جائز کردیا ہے، اس کے تین طریقے ہیں:
۱:۔ فرض کیا ’’الف‘‘ نے ’’ب‘‘ سے ۱۰ ہزار روپے قرض لیا، ’’ب‘‘ نے اس کے بدلے ’’الف‘‘ کی زمین رہن رکھ لی، اب ’’ب‘‘، ’’الف‘‘ کی زمین کی فصل اس وقت تک کھاتا رہے گا جب تک کہ ’’الف‘‘ پورے دس ہزار روپے واپس نہ کردے۔
۲:۔ اس طریقے میں ’’ب‘‘، ’’الف‘‘ کو ۱۰ فیصد سالانہ مالیہ دے گا۔
۳:۔ اس طریقے میں ’’ب‘‘، ’’الف‘‘ کو فصل کے تقریباً نصف مالیت کی رقم دے گا، یا اپنی رقم میں سے کٹائے گا۔
جناب مولانا! ایک بات یہ کہ اگر محنت، بیج اور بیل ’’الف‘‘ کے ہوں، یا محنت، بیج اور بیل ’’ب‘‘ کے ہوں تو کیا اثر پڑے گا؟ جناب! آپ اس کی شرعی حیثیت سے آگاہ کریں تاکہ ان لوگوں کو آپ کا فتویٰ دِکھایا جائے۔
جواب:۔
رہن رکھی ہوئی چیز کا مالک، رہن رکھوانے والا ہے، اور اس کے منافع اور پیداوار بھی اسی کی ملکیت ہے۔(۱) جس شخص کے پاس یہ چیز رہن رکھی گئی ہے، نہ وہ رہن کی چیز کا مالک ہے اور نہ اس کی پیداوار کا، بلکہ یہ ساری چیزیں اس کے پاس امانت ہیں۔ جب مالک قرض کی رقم ادا کرے گا، یہ ساری چیزیں اس سے وصول کرلے گا، مرتہن کا رہن کے منافع اور اس کی پیداوار کا کھانا سود ہے جو شرعاً حرام ہے۔(۲)
- (۱) (لَا إنتفاع بہ مطلقًا) لَا بإستخدام ولَا سکنٰی ولَا لبس ولَا إجارۃ ولَا إعارۃ سوائٌ کان من مرتھن أو راھن إلّا بإذن کل للآخر وقیل لَا یحل للمرتھن لأنہ ربا وقیل إن شرطہ کان ربا وإلّا لَا۔ (درمختار ج:۶ ص:۴۸۲)۔ قال فی الْإختیار: ویھلک علٰی ملک الراھن حتّٰی یکفنہ لأنہ ملکہ حقیقۃ وھو أمانۃ فی ید المرتھن۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۷۹، کتاب الرھن)۔
- (۲) عن علی أمیر المؤمنین مرفوعًا کل قرض جر منفعۃ فھو ربا۔ (إعلاء السُّنن ج:۱۴ ص:۵۱۲ باب کل قرض جر منفعۃ فھو ربا)۔ أیضًا: ولَا یجوز أجر الرھن، ولَا یخرج من ید المرتھن إلّا بعد قضاء الدین، ولَا ینتفع بہ وذٰلک لأن فی إجارتہ إستحقاق ید المرتھن، وفی ذٰلک إبطال الرھن۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۳ ص:۱۴۹ کتاب الرھن)۔ أیضًا: لَا یحل لہ أن ینتفع بشیء منہ بوجہ من الوجوہ وإن أذن لہ الراھن لأنہ أذن بہ فی الربا ولأنہ یستوفی دینہ کاملًا فتبقٰی لہ المنفعۃ فضلا فیکون ربًا۔ (رد المحتار ج:۶ ص:۴۸۲، کتاب الرھن)۔

