قرضکےمسائل
بیٹاباپکےانتقالکےبعدنادہندمقروضسےکیسےنمٹے؟
سوال:۔
میرے والد محترم سے ایک شخص نے کچھ رقم بطور قرض لی، اس کے عوض اپنا کچھ قیمتی سامان بطور زَرِ ضمانت رکھوادیا، مقرّرہ میعاد پوری ہونے پر جب وہ شخص نہیں آیا تو والد محترم نے مجھ سے کہا کہ: ’’فلاں شخص ملے تو اس سے رقم کی وصولی کا تقاضا کرنا اور اس کی امانت یاد دِلانا۔‘‘ کئی مرتبہ وہ شخص ملا، میں نے والد محترم کا پیغام دیا، مگر ہر مرتبہ جلد ہی ملاقات کا بہانہ کردیتا۔ اسی اثنا میں میرے والد محترم کا انتقال ہوگیا، اس کے کچھ عرصہ بعد وہ شخص ملا، میں نے والد محترم کے انتقال کا بتایا اور اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا، اس شخص نے کہا وہ رقم نہیں دے سکتا، اسے یہ رقم معاف ہی کردی جائے اور اس کی امانت اس کو واپس دے دی جائے۔ اپنی موت اور اس کی امانت کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہ ہونے کے ڈَر سے میں نے اس کی امانت اس کے حوالے کردی۔
۱:۔ کیا میں نے صحیح کیا؟
۲:۔ کیا میں والد محترم کی طرف سے اس قرض دار کو رقم معاف کرسکتا ہوں؟
۳:۔ یا کوئی اور طریقہ ہو تو تحریر فرمائیں۔
جواب:۔
آپ کے والد کے اِنتقال کے بعد ان کی رقم وارثوں کے نام منتقل ہوگئی،(۱) آپ اگر اپنے والد کے تنہا وارث ہیں اور کوئی وارث نہیں، تو آپ معاف کرسکتے ہیں، اور اگر دُوسرے وارث بھی ہیں تو اپنے حصے کی رقم تو خود معاف کرسکتے ہیں اور دُوسرے وارثوں سے معاف کرنے کی بات کرسکتے ہیں(۲) (بشرطیکہ تمام وارث عاقل و بالغ ہوں)۔
- (۱) تعریف الْإرث ۔۔۔ وفی الْإصطلاح إنتقال الملکیۃ من المیت إلٰی ورثتہ الأحیاء سواء کان المتروک مالًا، أو عقارًا، أو حقًّا من الحقوق الشرعیۃ۔ (المواریث فی الشریعۃ الْإسلامیۃ ص:۳۴)۔
- (۲) وعبارتہ (جامع الفصولین) قال أحد الورثۃ: برأت من ترکۃ أبی یبرأ الغرماء عن الدین بقدر حقہ لأن ھٰذا إبراء عن الغرماء بقدر حقہ، فیصح ۔۔۔إلخ۔ (غمز عیون البصائر شرح الحموی علی الأشباہ والنظائر ج:۳ ص:۵۴ الفن الثالث الجمع والفرق، طبع إدارۃ القرآن)۔

