بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

قرض‌کے‌مسائل

قرض‌ادا‌کردیں‌یا‌معاف‌کرالیں

سوال:۔

غالباً ۷۰-۱۹۶۹ء میں، میں نے اپنے ایک اسکول ٹیچر سے ایک رسالہ جس کی قیمت اس وقت صرف ۷۰ پیسے تھے، اُدھار خریدا لیکن اس کی رقم ادا نہ کی۔ اگلے ماہ ان سے اور ایک رسالہ اس وعدے پر اُدھار خریدا کہ دونوں کے پیسے اکٹھے دے دُوں گا، اور پھر تیسرے ماہ ان سے ایک اور رسالہ اُدھار خرید لیا، اس وعدے کے ساتھ کہ تینوں کے پیسے اکٹھے چند روز میں ادا کردُوں گا۔ لیکن وہ دن آج تک نہیں آیا ہے۔ ان تینوں رسالوں کی مجموعی قیمت دو روپے دس پیسے تھی۔ اس کے کوئی ایک سال بعد ان محترم اُستاد نے ان پیسوں کا تقاضا بھی کیا، لیکن میں نے پھر بہانہ بنادیا، اور آج تک یہ اُدھار ادا نہیں کرسکا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ میں ان رسالوں کی قیمت انہیں ادا کرنا چاہتا ہوں، یہ تحریر فرمائیں کہ جبکہ اس بات کو قریباً ۱۹ برس گزر چکے ہیں، مجھے اصل رقم جو دو روپے دس پیسے بنی تھی وہی ادا کرنا ہوگی یا زیادہ؟ اگر زیادہ تو کس حساب سے؟ میں نے ایک حدیث مبارک سنی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ: ’’جس شخص نے دُنیا میں کسی سے قرض لیا اور واپس نہ کیا، تو قیامت کے دن اسے صرف ۲ پیسے کے بدلے اس کی سات سو مقبول نمازوں کا ثواب دینا پڑے گا۔‘‘

جواب:۔

ان تینوں رسالوں کی قیمت آپ کے ذمہ واجب الادا ہے، اپنے اُستادِ محترم سے مل کر یا تو معاف کرالیں یا جتنی قیمت وہ بتائیں، ان کو ادا کردیں۔(۱) دو پیسے والی جو حدیث آپ نے ذکر کی ہے، یہ تو کہیں نہیں دیکھی، البتہ قرض اور حقوق کا معاملہ واقعی بڑا سنگین ہے، آدمی کو مرنے سے پہلے ان سے سبکدوش ہوجانا چاہئے۔(۲)

  1. (۱) وإن کانت عمّا یتعلق بالعباد فإن کانت من مظالم الأموال فیتوقف صحۃ التوبۃ منھا مع ما قدمناہ فی حقوق اللہ علی الخروج عن عھدۃ الأموال وارضاء الخصم فی المال أو الْإستقبال بأن یتحلل منھم أو یردّھا إلیھم أو إلٰی من یقوم مقامھم من وکیل أو وارث ھٰذا۔ (شرح فقہ أکبر ص:۱۹۴)۔
  2. (۲) وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: رحم اللہ عبدًا کانت لأخیہ عندہ مظلمۃ فی عرض أو مال فجائہ فاستحلّہ قبل أن یؤخذ۔ (ترمذی ج:۲ ص:۶۷۰)۔